ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو
نَحۡنُنَحْنُہم
نَقُصُّبیان کرتے ہیں
عَلَيۡكَعَلَيْكَآپ پر
أَحۡسَنَاَحْسَنَبہترین
ٱلۡقَصَصِالْقَصَصِبیان۔ بہترین واقعہ۔ قصوں میں سے بہترین قصہ
بِمَآبِمَا͏ٓساتھ اس کے جو
أَوۡحَيۡنَآاَوْحَيْنَا͏ٓوحی کررہے ہیں ہم
إِلَيۡكَاِلَيْكَآپ کی طرف
هَٰذَاهٰذَااس
ٱلۡقُرۡءَانَالْقُرْاٰنَࣗۖقرآن (نہیں)
وَإِنوَاِنْاور بیشک
كُنتَكُنْتَتھے آپ
مِنمِنْسے
قَبۡلِهِۦقَبْلِهٖاس سے پہلے
لَمِنَالبتہ میں سے
ٱلۡغَٰفِلِينَالْغٰفِلِيْنَغافلوں (میں سے)
3
(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے
1 الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں 2 ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو 3 (اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے
جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
قَالَاس نے کہا
يَٰبُنَيَّيٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
لَانہ
تَقۡصُصۡتَقْصُصْتم بتانا۔ نہ تم بیان کرنا
رُءۡيَاكَرُءْيَاكَاپنا خواب
عَلَىٰٓعَلٰٓيپر
إِخۡوَتِكَاِخْوَتِكَاپنے بھائیوں پر
فَيَكِيدُواْفَيَكِيْدُوْاورنہ وہ چال چلیں گے
لَكَتیرے لیے
كَيۡدًاۖكَيْدًاؕایک چال
إِنَّاِنَّبیشک
ٱلشَّيۡطَٰنَالشَّيْطٰنَشیطان
لِلۡإِنسَٰنِلِلْاِنْسَانِانسان کے لیے
عَدُوّٞعَدُوٌّدشمن ہے
مُّبِينٞمُّبِيْنٌکھلا
5
انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
وَكَذَٰلِكَوَكَذٰلِكَاور اسی طرح
يَجۡتَبِيكَيَجْتَبِيْكَچن لے گا تجھ کو
رَبُّكَتیرا رب
وَيُعَلِّمُكَاور سکھائے گا تجھ کو
مِنمِنْکی
تَأۡوِيلِتَاْوِيْلِاور پورا کردے گا
ٱلۡأَحَادِيثِالْاَحَادِيْثِباتوں کا مطلب۔ باتوں کی تہہ تک پہنچنا
وَيُتِمُّاور پورا کر دے گا
نِعۡمَتَهُۥنِعْمَتَهٗاپنی نعمت کو
عَلَيۡكَعَلَيْكَتجھ پر
وَعَلَىٰٓوَعَلٰٓياور پر
ءَالِاٰلِآل
يَعۡقُوبَيَعْقُوْبَیعقوب پر
كَمَآكَمَا͏ٓجیسا کہ
أَتَمَّهَااَتَمَّهَااس نے پورا کیا اس کو
عَلَىٰٓعَلٰٓيپر
أَبَوَيۡكَاَبَوَيْكَتیرے دو باپوں پر
مِنمِنْسے
قَبۡلُقَبْلُاس (سے) پہلے
إِبۡرَٰهِيمَاِبْرٰهِيْمَابراہیم پر
وَإِسۡحَٰقَۚوَاِسْحٰقَؕاور اسحاق
إِنَّاِنَّبیشک
رَبَّكَتیرا رب
عَلِيمٌعَلِيْمٌعلم والا
حَكِيمٞحَكِيْمٌحکمت والا ہے
6
اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
4 جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں 5 انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے 6 اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
لِّلسَّآئِلِينَلِّلسَّا࢜ىِٕلِيْنَسوال کرنے والوں کے لیے
7
ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں
إِذۡاِذْجب
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا تھا
لَيُوسُفُلَيُوْسُفُبلاشبہ یوسف
وَأَخُوهُوَاَخُوْهُاور اس کا بھائی
أَحَبُّاَحَبُّزیادہ پیارے ہیں۔ محبوب ہیں
إِلَىٰٓاِلٰٓيطرف
أَبِينَااَبِيْنَاہمارے باپ کے
مِنَّابہ نسبت ہمارے
وَنَحۡنُوَنَحْنُحالانکہ ہم
عُصۡبَةٌعُصْبَةٌؕایک گروہ ہیں۔ جتھہ ہیں
إِنَّاِنَّبیشک
أَبَانَااَبَانَاہمارے والد
لَفِيلَفِيْالبتہ میں
ضَلَٰلٖضَلٰلٍبھول میں ہیں
مُّبِينٍمُّبِيْنِواضح
8
جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں
ٱقۡتُلُواْاࣙقْتُلُوْاقتل کردو
يُوسُفَيُوْسُفَیوسف کو
أَوِاَوِیا
ٱطۡرَحُوهُاطْرَحُوْهُپھینک دو اس کو
أَرۡضٗااَرْضًاکسی زمین میں
يَخۡلُيَّخْلُخالی ہوجائے گا
لَكُمۡلَكُمْتمہارے لیے
وَجۡهُوَجْهُچہرہ
أَبِيكُمۡاَبِيْكُمْتمہارے باپ کا
وَتَكُونُواْوَتَكُوْنُوْااور تم ہوجانا
مِنۢمِنْۢکے
بَعۡدِهِۦبَعْدِهٖاس کام کے بعد
قَوۡمٗاقَوْمًالوگ
صَٰلِحِينَصٰلِحِيْنَنیک
9
تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے
قَالَکہا
قَآئِلٞقَا࢜ىِٕلٌایک کہنے والے نے
مِّنۡهُمۡمِّنْهُمْانہی میں سے
لَامت
تَقۡتُلُواْتَقْتُلُوْاقتل کرو
يُوسُفَيُوْسُفَیوسف کو
وَأَلۡقُوهُوَاَلْقُوْهُبلکہ ڈال دو اس کو
فِيفِيْمیں
غَيَٰبَتِغَيٰبَتِاندھیرے
ٱلۡجُبِّالْجُبِّکنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
يَلۡتَقِطۡهُيَلْتَقِطْهُاٹھا لے گا اس کو
بَعۡضُبَعْضُکوئی
ٱلسَّيَّارَةِالسَّيَّارَةِقافلہ
إِناِنْاگر
كُنتُمۡكُنْتُمْہو تم
فَٰعِلِينَفٰعِلِيْنَکرنے والے
10
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)
7 ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں 8 جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں 9 تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے 10 ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)
(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں
أَرۡسِلۡهُاَرْسِلْهُبھیجئے اس کو
مَعَنَاہمارے ساتھ
غَدٗاغَدًاکل
يَرۡتَعۡيَّرْتَعْوہ چرلے۔ کھالے
وَيَلۡعَبۡوَيَلْعَبْاور کھیلے
وَإِنَّاوَاِنَّااور بیشک ہم
لَهُۥلَهٗاس کے لیے
لَحَٰفِظُونَلَحٰفِظُوْنَالبتہ حفاظت کرنے والے ہیں
12
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں
قَالَاس نے کہا
إِنِّياِنِّيْبیشک مجھے
لَيَحۡزُنُنِيٓلَيَحْزُنُنِيْٓالبتہ غمگین کرتی ہے مجھ (یہ بات)
أَناَنْکہ
تَذۡهَبُواْتَذْهَبُوْاتم لے جاؤ
بِهِۦبِهٖاس کو
وَأَخَافُوَاَخَافُاور میں ڈرتا ہوں
أَناَنْکہ
يَأۡكُلَهُيَّاْكُلَهُکھاجائے گا اس کو
ٱلذِّئۡبُالذِّي͏ٔ͏ْبُبھیڑیا
وَأَنتُمۡوَاَنْتُمْاس حال میں کہ تم
عَنۡهُعَنْهُاس سے
غَٰفِلُونَغٰفِلُوْنَغافل ہو
13
انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
لَئِنۡلَىِٕنْالبتہ اگر
أَكَلَهُاَكَلَهُتو کھا گیا اس کو
ٱلذِّئۡبُالذِّي͏ٔ͏ْبُبھیڑیا
وَنَحۡنُوَنَحْنُجبکہ ہم
عُصۡبَةٌعُصْبَةٌایک گروہ ہیں
إِنَّآاِنَّا͏ٓبیشک ہم
إِذٗااِذًاتب
لَّخَٰسِرُونَلَّخٰسِرُوْنَالبتہ خسارہ پانے والے ہیں
14
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے
11 (یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں 12 کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں 13 انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے 14 وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے
وَأَجۡمَعُوٓاْوَاَجْمَعُوْٓااور انہوں نے اتفاق طے کرلیا
أَناَنْکہ
يَجۡعَلُوهُيَّجْعَلُوْهُڈالیں اس کو
فِيفِيْمیں
غَيَٰبَتِغَيٰبَتِاندھے
ٱلۡجُبِّۚالْجُبِّۚکنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
وَأَوۡحَيۡنَآوَاَوْحَيْنَا͏ٓاور وحی کی ہم نے
إِلَيۡهِاِلَيْهِاس کی طرف
لَتُنَبِّئَنَّهُملَتُنَبِّي͏ٔ͏َنَّهُمْالبتہ تو ضرور آگاہ کرے گا ان کو
بِأَمۡرِهِمۡبِاَمْرِهِمْان کے کام کے بارے میں
هَٰذَاهٰذَااس
وَهُمۡوَهُمْاور وہ
لَانہ
يَشۡعُرُونَيَشْعُرُوْنَشعور رکھتے ہوں گے
15
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
وَجَآءُوٓوَجَا࢜ءُوْٓاور وہ آگئے
أَبَاهُمۡاَبَاهُمْاپنے باپ کے پاس
عِشَآءٗعِشَا࢜ءًعشاء کے وقت
يَبۡكُونَيَّبْكُوْنَروتے پیٹتے
16
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
قَالُواْقَالُوْاکہنے لگے
يَٰٓأَبَانَآيٰٓاَبَانَا͏ٓاے ابا جان
إِنَّااِنَّابیشک ہم
ذَهَبۡنَاذَهَبْنَاہم چلے گئے تھے
نَسۡتَبِقُنَسْتَبِقُدوڑ لگانے کے لیے
وَتَرَكۡنَاوَتَرَكْنَااور ہم چھوڑ گئے
يُوسُفَيُوْسُفَیوسف کو
عِندَعِنْدَپاس
مَتَٰعِنَامَتَاعِنَااپنے سامان کے
فَأَكَلَهُفَاَكَلَهُپھر کھا گیا اس کو
ٱلذِّئۡبُۖالذِّي͏ٔ͏ْبُۚبھیڑیا
وَمَآوَمَا͏ٓاور نہیں
أَنتَاَنْتَتو
بِمُؤۡمِنٖبِمُو͏ٔ͏ْمِنٍماننے والا
لَّنَاہم کو
وَلَوۡوَلَوْاور اگرچہ
كُنَّاہوں ہم
صَٰدِقِينَصٰدِقِيْنَسچ بولنے والے
17
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
وَجَآءُووَجَا࢜ءُوْاور وہ لائے تھے
عَلَىٰعَلٰيپر
قَمِيصِهِۦقَمِيْصِهٖاس کی قمیص
بِدَمٖبِدَمٍخون
كَذِبٖۚكَذِبٍؕجھوٹا
قَالَکہا
بَلۡبَلْبلکہ
سَوَّلَتۡسَوَّلَتْآسان کردیا
لَكُمۡلَكُمْتمہارے لیے
أَنفُسُكُمۡاَنْفُسُكُمْتمہارے نفسوں نے
أَمۡرٗاۖاَمْرًاؕایک کام کو
فَصَبۡرٞفَصَبْرٌتو صبر ہی
جَمِيلٞۖجَمِيْلٌؕاچھا ہے
وَٱللَّهُوَاللّٰهُاور اللہ ہی ہے
ٱلۡمُسۡتَعَانُالْمُسْتَعَانُجس سے مدد چاہی جاسکتی ہے
عَلَىٰعَلٰياس کے خلاف
مَاجو
تَصِفُونَتَصِفُوْنَتم بیان کررہے ہو
18
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
15 غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی 16 (یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے 17 (اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے 18 اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
وَأَسَرُّوهُوَاَسَرُّوْهُاور انہوں نے چھپالیا اس کو
بِضَٰعَةٗۚبِضَاعَةًؕسامان سمجھ کر۔ مال تجارت سمجھ کر
وَٱللَّهُوَاللّٰهُاور اللہ
عَلِيمُۢعَلِيْمٌۢعلم والا ہے
بِمَاساتھ اس کے جو
يَعۡمَلُونَيَعْمَلُوْنَوہ کررہے تھے
19
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
وَشَرَوۡهُوَشَرَوْهُاور انہوں نے بیچ ڈالا اس کو
بِثَمَنِۭبِثَمَنٍۭقیمت پر
بَخۡسٖبَخْسٍکم
دَرَٰهِمَدَرَاهِمَدرہموں میں
مَعۡدُودَةٖمَعْدُوْدَةٍۚگنے چنے
وَكَانُواْوَكَانُوْااور وہ تھے
فِيهِفِيْهِاس کے بارے میں
مِنَسے
ٱلزَّٰهِدِينَالزَّاهِدِيْنَبےرغبت لوگوں میں سے
20
اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا
عRuku 3 of 12 · 9 Ayahs
وَقَالَاور کہا
ٱلَّذِيالَّذِياس شخص نے
ٱشۡتَرَىٰهُاشْتَرٰىهُجس نے خریدا تھا اس کو
مِنمِنْسے
مِّصۡرَمِّصْرَمصر سے
لِٱمۡرَأَتِهِۦٓلِامْرَاَتِهٖٓاپنی بیوی کو
أَكۡرِمِياَكْرِمِيْباعزت رکھ۔ عزت کے ساتھ دے
مَثۡوَىٰهُمَثْوٰىهُٹھکانہ اس کو
عَسَىٰٓعَسٰٓيامید ہے
أَناَنْکہ
يَنفَعَنَآيَّنْفَعَنَا͏ٓنفع دے گا ہم کو
أَوۡاَوْیا
نَتَّخِذَهُۥنَتَّخِذَهٗہم بنالیں گے اس کو
وَلَدٗاۚوَلَدًاؕبیٹا
وَكَذَٰلِكَوَكَذٰلِكَاور اسی طرح
مَكَّنَّاٹھکانہ دیا ہم نے
لِيُوسُفَلِيُوْسُفَیوسف کو
فِيمیں
ٱلۡأَرۡضِالْاَرْضِؗزمین میں
وَلِنُعَلِّمَهُۥوَلِنُعَلِّمَهٗاور تاکہ ہم سکھائیں اس کو
مِنمِنْسے
تَأۡوِيلِتَاْوِيْلِمطلب مٰیں سے
ٱلۡأَحَادِيثِۚالْاَحَادِيْثِؕباتوں کے (مطلب مٰیں سے)
وَٱللَّهُوَاللّٰهُاور اللہ تعالیٰ
غَالِبٌغالب ہے
عَلَىٰٓعَلٰٓيمیں۔ پر
أَمۡرِهِۦاَمْرِهٖاپنے فیصلے (میں) اپنے کام پر
وَلَٰكِنَّوَلٰكِنَّاور لیکن
أَكۡثَرَاَكْثَرَاکثر
ٱلنَّاسِالنَّاسِلوگ
لَانہیں
يَعۡلَمُونَيَعْلَمُوْنَعلم رکھتے
21
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
وَلَمَّااور جب
بَلَغَوہ پہنچا
أَشُدَّهُۥٓاَشُدَّهٗٓاپنی جوانی کو
ءَاتَيۡنَٰهُاٰتَيْنٰهُدی ہم نے اس کو
حُكۡمٗاحُكْمًاقوت فیصلہ
وَعِلۡمٗاۚوَّعِلْمًاؕاور علم
وَكَذَٰلِكَوَكَذٰلِكَاور اسی طرح
نَجۡزِينَجْزِيہم جزا دیتے ہیں
ٱلۡمُحۡسِنِينَالْمُحْسِنِيْنَاحسان کرنے والوں کو
22
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
19 (اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا 20 اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا 21 اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے 22 اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
وَلَقَدۡوَلَقَدْاور البتہ تحقیق
هَمَّتۡهَمَّتْاس عورت نے ارادہ کیا
بِهِۦۖبِهٖۚاس کا
وَهَمَّاور وہ بھی ارادہ کرلیتا
بِهَااس کا
لَوۡلَآلَوْلَا͏ٓاگر نہ
أَناَنْکہ
رَّءَارَّاٰوہ دیکھ لیتا
بُرۡهَٰنَبُرْهَانَبرہان
رَبِّهِۦۚرَبِّهٖؕاپنے رب کی
كَذَٰلِكَكَذٰلِكَاسی طرح
لِنَصۡرِفَلِنَصْرِفَتاکہ ہم پھیر دیں
عَنۡهُعَنْهُاس سے
ٱلسُّوٓءَالسُّوْ࢜ءَبرائی کو
وَٱلۡفَحۡشَآءَۚوَالْفَحْشَا࢜ءَؕاور بےحیائی کو
إِنَّهُۥاِنَّهٗکیونکہ وہ
مِنۡمِنْسے
عِبَادِنَاہمارے بندوں میں (سے) تھا
ٱلۡمُخۡلَصِينَالْمُخْلَصِيْنَچنے ہوئے
24
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
23 تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے 24 اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
قَالَاس نے کہا
هِيَیہ
رَٰوَدَتۡنِيرَاوَدَتْنِيْپھسلانا چاہتی تھی تجھ کو
عَنعَنْسے
نَّفۡسِيۚنَّفْسِيْمیرے نفس
وَشَهِدَاور گواہی دی
شَاهِدٞشَاهِدٌایک گواہ نے
مِّنۡمِّنْسے
أَهۡلِهَآاَهْلِهَاۚاس کے گھروالوں میں سے
إِناِنْاگر
كَانَہے
قَمِيصُهُۥقَمِيْصُهٗاس کی قمیص
قُدَّپھاڑی گئی
مِنمِنْسے
قُبُلٖقُبُلٍسامنے سے
فَصَدَقَتۡفَصَدَقَتْتو یہ سچی ہے
وَهُوَاور وہ
مِنَسے
ٱلۡكَٰذِبِينَالْكٰذِبِيْنَجھوٹوں میں سے ہے
26
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
وَإِنوَاِنْاور اگر
كَانَہے
قَمِيصُهُۥقَمِيْصُهٗاس کی قمیص
قُدَّپھاڑی گئی
مِنمِنْسے
دُبُرٖدُبُرٍپچھلی طرف
فَكَذَبَتۡفَكَذَبَتْتو وہ جھوٹی ہے
وَهُوَاور وہ
مِنَسے
ٱلصَّٰدِقِينَالصّٰدِقِيْنَسچوں میں سے ہے
27
اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے
فَلَمَّاتو جب
رَءَارَاٰاس نے دیکھا
قَمِيصَهُۥقَمِيْصَهٗاس کی قمیص کو
قُدَّپھاڑ دی گئی ہے
مِنمِنْسے
دُبُرٖدُبُرٍپچھلی طرف سے
قَالَکہا۔ بولا
إِنَّهُۥاِنَّهٗبیشک وہ
مِنمِنْسے
كَيۡدِكُنَّۖكَيْدِكُنَّؕتم عورتوں کی چال میں سے ہے
إِنَّاِنَّبیشک
كَيۡدَكُنَّكَيْدَكُنَّتم عورتوں کی چالیں
عَظِيمٞعَظِيْمٌبہت بڑی ہوتی ہیں
28
اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں
يُوسُفُيُوْسُفُیوسف
أَعۡرِضۡاَعْرِضْدرگزر کرو
عَنۡعَنْسے
هَٰذَاۚهٰذَاࣝاس (سے)
وَٱسۡتَغۡفِرِيوَاسْتَغْفِرِيْاور بخشش مانگ
لِذَنۢبِكِۖلِذَنۢ͏ْبِكِۚۖاے عورت اپنے گناہ کی
إِنَّكِاِنَّكِکیونکہ تو
كُنتِكُنْتِہی ہے تو
مِنَسے
ٱلۡخَاطِـِٔينَالْخٰطِـِٕيْنَخطا کاروں میں سے
29
یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
25 اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے 26 یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا 27 اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے 28 اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں 29 یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
فَلَمَّاتو جب
سَمِعَتۡسَمِعَتْاس نے سنا
بِمَكۡرِهِنَّبِمَكْرِهِنَّان عورتوں کے مکر کو
أَرۡسَلَتۡاَرْسَلَتْاس نے بھیجا
إِلَيۡهِنَّاِلَيْهِنَّان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو)
وَأَعۡتَدَتۡوَاَعْتَدَتْاور تیار کیں
لَهُنَّان کے لیے
مُتَّكَـٔٗامُتَّكَاًتکیہ لگانے کی جگہ (مجلس)
وَءَاتَتۡوَّاٰتَتْاور دی
كُلَّہر
وَٰحِدَةٖوَاحِدَةٍایک عورت کو
مِّنۡهُنَّمِّنْهُنَّان میں سے
سِكِّينٗاسِكِّيْنًاایک چھری
وَقَالَتِوَّقَالَتِاور کہنے لگی
ٱخۡرُجۡاخْرُجْنکل آ
عَلَيۡهِنَّۖعَلَيْهِنَّۚان پر
فَلَمَّاتو جب
رَأَيۡنَهُۥٓرَاَيْنَهٗٓان عورتوں نے دیکھا اس کو
أَكۡبَرۡنَهُۥاَكْبَرْنَهٗبڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سے
وَقَطَّعۡنَوَقَطَّعْنَاور کاٹ بیٹھیں
أَيۡدِيَهُنَّاَيْدِيَهُنَّاپنے ہاتھ
وَقُلۡنَوَقُلْنَاور کہنے لگیں
حَٰشَحَاشَحاش۔پاکی
لِلَّهِلِلّٰهِللہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیے
مَانہیں
هَٰذَاهٰذَاہے یہ
بَشَرًابَشَرًاؕایک انسان
إِنۡاِنْنہیں
هَٰذَآهٰذَا͏ٓیہ
إِلَّااِلَّامگر
مَلَكٞمَلَكٌایک فرشتہ
كَرِيمٞكَرِيْمٌمعزز
31
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
قَالَتۡقَالَتْوہ کہنے لگی
فَذَٰلِكُنَّفَذٰلِكُنَّتو یہ ہے
ٱلَّذِيالَّذِيْوہ شخص
لُمۡتُنَّنِيلُمْتُنَّنِيْتم ملامت کرتی تھیں مجھ کو
فِيهِۖفِيْهِؕاس کے بارے میں
وَلَقَدۡوَلَقَدْاور البتہ تحقیق
رَٰوَدتُّهُۥرَاوَدْتُّهٗمیں نے پھسلانا چاہا اس کو
عَنعَنْسے
نَّفۡسِهِۦنَّفْسِهٖاس کے نفس سے
فَٱسۡتَعۡصَمَۖفَاسْتَعْصَمَؕتو بچا گیا۔ بچ نکلا
وَلَئِنوَلَىِٕنْاور البتہ اگر
لَّمۡلَّمْنہ
يَفۡعَلۡيَفْعَلْکرے
مَآمَا͏ٓجو
ءَامُرُهُۥاٰمُرُهٗمیں حکم دیتی ہوں اس کو
لَيُسۡجَنَنَّلَيُسْجَنَنَّالبتہ ضرور قید کیا جائے گا
وَلَيَكُونٗاوَلَيَكُوْنًااور البتہ ہوجائے گا
مِّنَسے
ٱلصَّٰغِرِينَالصّٰغِرِيْنَذلیل ہونے والوں میں سے
32
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
30 اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے 31 جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے 32 تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
فَٱسۡتَجَابَفَاسْتَجَابَتو دعا قبول کرلی
لَهُۥلَهٗاس کے لیے
رَبُّهُۥرَبُّهٗاس کے رب نے
فَصَرَفَتو دور کردیں۔ پھیر دیں
عَنۡهُعَنْهُاس سے
كَيۡدَهُنَّۚكَيْدَهُنَّؕان عورتوں کی چال
إِنَّهُۥاِنَّهٗبیشک وہ
هُوَوہ
ٱلسَّمِيعُالسَّمِيْعُسننے والا ہے
ٱلۡعَلِيمُالْعَلِيْمُجاننے والا ہے
34
تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے
ثُمَّپھر
بَدَاظاہر ہوگیا
لَهُملَهُمْان کے لیے
مِّنۢمِّنْۢکے
بَعۡدِبَعْدِاس کے بعد
مَاجو
رَأَوُاْرَاَوُاانہوں نے دیکھیں
ٱلۡأٓيَٰتِالْاٰيٰتِنشانیاں
لَيَسۡجُنُنَّهُۥلَيَسْجُنُنَّهٗالبتہ ضرور قید کردیں گے اس کو
حَتَّىٰحَتّٰيتک
حِينٖحِيْنٍایک وقت
35
پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں
33 یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا 34 تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے 35 پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں
اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں
قَالَاس نے کہا
لَانہیں
يَأۡتِيكُمَايَاْتِيْكُمَاآئے گا تم دونوں کے پاس
طَعَامٞطَعَامٌکھانا
تُرۡزَقَانِهِۦٓتُرْزَقٰنِهٖٓتم کھلائے جاتے ہو اس کو
إِلَّااِلَّامگر
نَبَّأۡتُكُمَانَبَّاْتُكُمَامیں بتادوں گا تم دونوں کو
بِتَأۡوِيلِهِۦبِتَاْوِيْلِهٖاس کی تعبیر
قَبۡلَقَبْلَاس سے پہلے
أَناَنْکہ
يَأۡتِيَكُمَاۚيَّاْتِيَكُمَاؕوہ آئے تم دونوں کے پاس
ذَٰلِكُمَاذٰلِكُمَایہ
مِمَّااس میں سے ہے جو
عَلَّمَنِيعَلَّمَنِيْسکھایا مجھ کو
رَبِّيٓۚرَبِّيْؕمیرے رب نے
إِنِّياِنِّيْبیشک میں
تَرَكۡتُتَرَكْتُمیں نے چھوڑ دیا
مِلَّةَملت کو
قَوۡمٖقَوْمٍایک قوم کی
لَّانہیں
يُؤۡمِنُونَيُو͏ٔ͏ْمِنُوْنَجو ایمان رکھتی
بِٱللَّهِبِاللّٰهِاللہ پر
وَهُموَهُمْاور وہ
بِٱلۡأٓخِرَةِبِالْاٰخِرَةِآخرت کے ساتھ
هُمۡهُمْوہ
كَٰفِرُونَكٰفِرُوْنَانکاری ہیں
37
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں
وَٱتَّبَعۡتُوَاتَّبَعْتُاور میں نے پیروی کی
مِلَّةَملت کی
ءَابَآءِيٓاٰبَا࢜ءِيْٓاپنے آباء کی
إِبۡرَٰهِيمَاِبْرٰهِيْمَابراہیم
وَإِسۡحَٰقَوَاِسْحٰقَاور اسحاق
وَيَعۡقُوبَۚوَيَعْقُوْبَؕاور یعقوب
مَانہیں
كَانَہے
لَنَآلَنَا͏ٓہمارے لیے
أَناَنْکہ
نُّشۡرِكَنُّشْرِكَہم شریک ٹھہرائیں
بِٱللَّهِبِاللّٰهِساتھ اللہ کے
مِنمِنْکسی
شَيۡءٖۚشَيْءٍؕچیز کو
ذَٰلِكَذٰلِكَیہ
مِنمِنْکے
فَضۡلِفَضْلِفضل میں سے ہے
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کے
عَلَيۡنَاعَلَيْنَاہم پر
وَعَلَىوَعَلَياور پر
ٱلنَّاسِالنَّاسِلوگوں
وَلَٰكِنَّوَلٰكِنَّاور لیکن
أَكۡثَرَاَكْثَرَاکثر
ٱلنَّاسِالنَّاسِلوگ
لَانہیں
يَشۡكُرُونَيَشْكُرُوْنَشکرادا کرتے
38
اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
36 اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں 37 یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں 38 اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟
مَانہیں
تَعۡبُدُونَتَعْبُدُوْنَتم عبادت کرتے
مِنمِنْکے
دُونِهِۦٓدُوْنِهٖٓاس کے سوا
إِلَّآاِلَّا͏ٓمگر
أَسۡمَآءٗاَسْمَا࢜ءًکچھ ناموں کی
سَمَّيۡتُمُوهَآسَمَّيْتُمُوْهَا͏ٓنام رکھ لیے تم نے ان کے
أَنتُمۡاَنْتُمْتم نے
وَءَابَآؤُكُموَاٰبَا࢜و͏ٔ͏ُكُمْاور تمہارے آباؤ اجداد نے
مَّآمَّا͏ٓنہیں
أَنزَلَاَنْزَلَاتاری
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ نے
بِهَاان کے ساتھ
مِنمِنْکوئی
سُلۡطَٰنٍۚسُلْطٰنٍؕدلیل
إِنِاِنِنہیں
ٱلۡحُكۡمُالْحُكْمُفیصلہ۔ حکم
إِلَّااِلَّامگر
لِلَّهِلِلّٰهِؕاللہ ہی کے لیے
أَمَرَاَمَرَاس نے حکم دیا
أَلَّااَلَّاکہ نہ
تَعۡبُدُوٓاْتَعْبُدُوْٓاتم عبادت کرو
إِلَّآاِلَّا͏ٓمگر
إِيَّاهُۚاِيَّاهُؕصرف اسی کی
ذَٰلِكَذٰلِكَیہ
ٱلدِّينُالدِّيْنُدین ہے
ٱلۡقَيِّمُالْقَيِّمُدرست
وَلَٰكِنَّوَلٰكِنَّلیکن
أَكۡثَرَاَكْثَرَاکثر
ٱلنَّاسِالنَّاسِلوگ
لَانہیں
يَعۡلَمُونَيَعْلَمُوْنَجانتے ہیں
40
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
39 میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟ 40 جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
تَسۡتَفۡتِيَانِتَسْتَفْتِيٰنِتم دونوں جواب مانگتے ہو
41
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
وَقَالَاور کہا
لِلَّذِيلِلَّذِيْاس کے لیے۔ اس کو
ظَنَّکہ اس نے گمان کیا تھا
أَنَّهُۥاَنَّهٗکہ بیشک وہ
نَاجٖنَاجٍنجات پانے والا ہے
مِّنۡهُمَامِّنْهُمَاان دونوں میں سے
ٱذۡكُرۡنِياذْكُرْنِيْذکر کرنا میرا
عِندَعِنْدَپاس
رَبِّكَرَبِّكَؗاپنے آقا کے
فَأَنسَىٰهُفَاَنْسٰىهُتو بھلا دیا اس کو
ٱلشَّيۡطَٰنُالشَّيْطٰنُشیطان نے
ذِكۡرَذِكْرَذکر کرنا
رَبِّهِۦرَبِّهٖاپنے آقا کو
فَلَبِثَتو ٹھہرا رہا
فِيمیں
ٱلسِّجۡنِالسِّجْنِقید خانے
بِضۡعَبِضْعَچند
سِنِينَسِنِيْنَسال
42
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
41 میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے 42 اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
قَالُوٓاْقَالُوْٓاانہوں نے کہا
أَضۡغَٰثُاَضْغَاثُگڑ بڑ۔ پراگندہ
أَحۡلَٰمٖۖاَحْلَامٍۚخواب ہیں
وَمَااور نہیں
نَحۡنُنَحْنُہم
بِتَأۡوِيلِبِتَاْوِيْلِتعبیر کو
ٱلۡأَحۡلَٰمِالْاَحْلَامِخوابوں کی
بِعَٰلِمِينَبِعٰلِمِيْنَجاننے والے
44
انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی
وَقَالَاور کہا
ٱلَّذِيالَّذِيْاس شخص نے
نَجَاجو نجات پا گیا تھا
مِنۡهُمَامِنْهُمَاان دونوں میں سے
وَٱدَّكَرَوَادَّكَرَاور اس نے یاد کیا
بَعۡدَبَعْدَبعد
أُمَّةٍاُمَّةٍایک مدت کے
أَنَا۠اَنَامیں
أُنَبِّئُكُماُنَبِّي͏ٔ͏ُكُمْبتاتا ہوں تم کو
بِتَأۡوِيلِهِۦبِتَاْوِيْلِهٖاس کی تعبیر
فَأَرۡسِلُونِفَاَرْسِلُوْنِپس بھیجو مجھ کو
45
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
43 اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ 44 انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی 45 اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں)۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا
ثُمَّپھر
يَأۡتِييَاْتِيْآئیں گے
مِنۢمِنْۢکے
بَعۡدِبَعْدِبعد
ذَٰلِكَذٰلِكَاس کے
سَبۡعٞسَبْعٌسات
شِدَادٞشِدَادٌسخت سال
يَأۡكُلۡنَيَّاْكُلْنَکھا جائیں گے
مَاجو
قَدَّمۡتُمۡقَدَّمْتُمْپیش کرو گے تم
لَهُنَّان کے لیے
إِلَّااِلَّامگر
قَلِيلٗاقَلِيْلًاتھوڑے
مِّمَّااس میں سے جو
تُحۡصِنُونَتُحْصِنُوْنَتم روک رکھو گے
48
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
ثُمَّپھر
يَأۡتِييَاْتِيْآئے گا
مِنۢمِنْۢکے
بَعۡدِبَعْدِبعد
ذَٰلِكَذٰلِكَاس کے
عَامٞعَامٌایک سال
فِيهِفِيْهِجس میں
يُغَاثُفریاد رسی کی جائے گی
ٱلنَّاسُالنَّاسُلوگوں کی
وَفِيهِوَفِيْهِاور اس میں
يَعۡصِرُونَيَعْصِرُوْنَوہ رس نچوڑیں گے
49
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
46 (غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں)۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں 47 انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا 48 پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے 49 پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
قَالَکہا (بادشاہ نے (
مَاکیا
خَطۡبُكُنَّخَطْبُكُنَّمعاملہ ہے تمہارا
إِذۡاِذْجب
رَٰوَدتُّنَّرَاوَدْتُّنَّتم سب نے پھسلانا چاہا تھا
يُوسُفَيُوْسُفَیوسف کو
عَنعَنْسے
نَّفۡسِهِۦۚنَّفْسِهٖؕاس کے نفس سے
قُلۡنَقُلْنَکہنے لگیں
حَٰشَحَاشَحاش۔پاکی
لِلَّهِلِلّٰهِاللہ۔ پاکی اللہ کے لیے ہے
مَانہیں
عَلِمۡنَاعَلِمْنَاجانا ہم نے
عَلَيۡهِعَلَيْهِاس پر
مِنمِنْکسی
سُوٓءٖۚسُوْ࢜ءٍؕبرائی کو
قَالَتِکہنے لگی
ٱمۡرَأَتُامْرَاَتُبیوی
ٱلۡعَزِيزِالْعَزِيْزِعزیز کی
ٱلۡـَٰٔنَالْـٰٔنَاب
حَصۡحَصَحَصْحَصَواضح ہوگیا
ٱلۡحَقُّالْحَقُّؗحق
أَنَا۠اَنَامیں نے
رَٰوَدتُّهُۥرَاوَدْتُّهٗپھسلانا چاہا تھا اس کو
عَنعَنْسے
نَّفۡسِهِۦنَّفْسِهٖاس کے نفس سے
وَإِنَّهُۥوَاِنَّهٗاور بیشک وہ
لَمِنَالبتہ
ٱلصَّٰدِقِينَالصّٰدِقِيْنَسچوں میں سے ہے
51
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
ذَٰلِكَذٰلِكَیہ
لِيَعۡلَمَلِيَعْلَمَتاکہ وہ جان لے
أَنِّياَنِّيْبیشک میں
لَمۡلَمْنہیں
أَخُنۡهُاَخُنْهُمیں نے خیانت کی اس کی
بِٱلۡغَيۡبِبِالْغَيْبِغائبانہ طور پر
وَأَنَّوَاَنَّاور بیشک
ٱللَّهَاللّٰهَاللہ تعالیٰ
لَانہیں
يَهۡدِييَهْدِيْرہنمائی کرتا
كَيۡدَكَيْدَچال کو
ٱلۡخَآئِنِينَالْخَا࢜ىِٕنِيْنَخیانت کاروں کی
52
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
۞Hizb 25
وَمَآوَمَا͏ٓاور نہیں
أُبَرِّئُاُبَرِّي͏ٔ͏ُمیں بری الذمہ کرتا
نَفۡسِيٓۚنَفْسِيْۚاپنے نفس کو
إِنَّاِنَّبیشک
ٱلنَّفۡسَالنَّفْسَنفس
لَأَمَّارَةُۢلَاَمَّارَةٌۢالبتہ بہت حکم دینے والا ہے
بِٱلسُّوٓءِبِالسُّوْ࢜ءِبرائی کا
إِلَّااِلَّامگر
مَااس کے جو
رَحِمَرحم کرے
رَبِّيٓۚرَبِّيْؕمیرا رب
إِنَّاِنَّ—
رَبِّيرَبِّيْمیرا رب
غَفُورٞغَفُوْرٌغفور،
رَّحِيمٞرَّحِيْمٌرحیم ہے
53
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
50 (یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے 51 بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے 52 (یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا 53 اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
قَالَاس نے کہا
ٱجۡعَلۡنِياجْعَلْنِيْمقدر کر دیجئے مجھ کو
عَلَىٰعَلٰياوپر
خَزَآئِنِخَزَا࢜ىِٕنِخزانوں کے
ٱلۡأَرۡضِۖالْاَرْضِۚزمین کے
إِنِّياِنِّيْبیشک میں
حَفِيظٌحَفِيْظٌحفاظت کرنے والا ہوں
عَلِيمٞعَلِيْمٌعلم رکھنے والا ہوں
55
(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں
وَكَذَٰلِكَوَكَذٰلِكَاور اسی طرح
مَكَّنَّااقتدار دیا ہم نے
لِيُوسُفَلِيُوْسُفَیوسف کو
فِيمیں
ٱلۡأَرۡضِالْاَرْضِۚزمین
يَتَبَوَّأُيَتَبَوَّاُجگہ بنائے
مِنۡهَامِنْهَااس میں سے
حَيۡثُحَيْثُجہاں
يَشَآءُۚيَشَا࢜ءُؕچاہے
نُصِيبُنُصِيْبُہم پہنچاتے ہیں
بِرَحۡمَتِنَابِرَحْمَتِنَااپنی رحمت کو
مَنمَنْجس کو
نَّشَآءُۖنَّشَا࢜ءُہم چاہتے ہیں
وَلَااور نہیں
نُضِيعُنُضِيْعُہم ضائع کرتے
أَجۡرَاَجْرَاجر
ٱلۡمُحۡسِنِينَالْمُحْسِنِيْنَمحسنین کا
56
اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
وَلَأَجۡرُوَلَاَجْرُاور البتہ اجر
ٱلۡأٓخِرَةِالْاٰخِرَةِآخرت کا
خَيۡرٞخَيْرٌبہتر ہے
لِّلَّذِينَلِّلَّذِيْنَان لوگوں کے لئے
ءَامَنُواْاٰمَنُوْاجو ایمان لائے
وَكَانُواْوَكَانُوْااور وہ
يَتَّقُونَيَتَّقُوْنَتقویٰ اختیار کرتے ہیں
57
اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے
54 بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو 55 (یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں 56 اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے 57 اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے
اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے
وَلَمَّاپھر جب
جَهَّزَهُمجَهَّزَهُمْاس نے تیار کیا ان کو
بِجَهَازِهِمۡبِجَهَازِهِمْساتھ ان کے سامان کے
قَالَبولے
ٱئۡتُونِياي͏ٔ͏ْتُوْنِيْلانا میرے پاس
بِأَخٖبِاَخٍبھائی کو
لَّكُملَّكُمْاپنے
مِّنۡمِّنْسے
أَبِيكُمۡۚاَبِيْكُمْۚجو تمہارے باپ سے ہے
أَلَااَلَاکیا نہیں
تَرَوۡنَتَرَوْنَتم دیکھتے ہو
أَنِّيٓاَنِّيْٓبیشک میں
أُوفِياُوْفِيپورا پورا دیتا ہوں
ٱلۡكَيۡلَالْكَيْلَپیمانہ
وَأَنَا۠وَاَنَااور میں
خَيۡرُخَيْرُبہترین
ٱلۡمُنزِلِينَالْمُنْزِلِيْنَمہمان نواز ہوں
59
جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں
فَإِنفَاِنْپھر
لَّمۡلَّمْاگر نہ
تَأۡتُونِيتَاْتُوْنِيْتم لائے اس کو
بِهِۦبِهٖمیرے پاس
فَلَاتو نہیں
كَيۡلَكَيْلَکوئی پیمانہ / غلہ
لَكُمۡلَكُمْتمہارے لئے
عِندِيعِنْدِيْمیرے پاس
وَلَااور نہ
تَقۡرَبُونِتَقْرَبُوْنِتم قریب آنا میرے
60
اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
سَنُرَٰوِدُسَنُرَاوِدُعنقریب ہم قائل کریں گے
عَنۡهُعَنْهُاس کے بارے میں
أَبَاهُاَبَاهُاس کے باپ کو
وَإِنَّاوَاِنَّااور بیشک ہم
لَفَٰعِلُونَلَفٰعِلُوْنَالبتہ کرنے والے ہیں
61
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے
وَقَالَاور کہا
لِفِتۡيَٰنِهِلِفِتْيٰنِهِاپنے غلاموں کو
ٱجۡعَلُواْاجْعَلُوْارکھ دو
بِضَٰعَتَهُمۡبِضَاعَتَهُمْان کی پونجی کو/ سامان کو
فِيفِيْمیں
رِحَالِهِمۡرِحَالِهِمْان کی خُرجیوں
لَعَلَّهُمۡلَعَلَّهُمْشاید کہ وہ
يَعۡرِفُونَهَآيَعْرِفُوْنَهَا͏ٓاس کو پہچان جائیں
إِذَااِذَاجب وہ
ٱنقَلَبُوٓاْانْقَلَبُوْٓاپلٹیں
إِلَىٰٓاِلٰٓياپنے
أَهۡلِهِمۡاَهْلِهِمْگھر والوں کی طرف
لَعَلَّهُمۡلَعَلَّهُمْشاید کہ وہ
يَرۡجِعُونَيَرْجِعُوْنَلوٹ آئیں
62
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
58 اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے 59 جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں 60 اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے 61 انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے 62 (اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
قَالَکہا
هَلۡهَلْکیا
ءَامَنُكُمۡاٰمَنُكُمْمیں بھروسہ کرلوں تم پر
عَلَيۡهِعَلَيْهِاس کے معاملے میں
إِلَّااِلَّامگر
كَمَآكَمَا͏ٓجیسا کہ
أَمِنتُكُمۡاَمِنْتُكُمْمیں نے بھروسہ کیا تم پر
عَلَىٰٓعَلٰٓيمعاملے میں
أَخِيهِاَخِيْهِاس کے بھائی کے
مِنمِنْاس سے
قَبۡلُقَبْلُؕقبل
فَٱللَّهُفَاللّٰهُپس اللہ
خَيۡرٌخَيْرٌبہترین
حَٰفِظٗاۖحٰفِظًاࣕحفاظت کرنے والا ہے
وَهُوَوَّهُوَاور وہ
أَرۡحَمُاَرْحَمُسب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
ٱلرَّٰحِمِينَالرّٰحِمِيْنَسب رحم کرنے والوں (سے)
64
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
وَلَمَّااور جب
فَتَحُواْفَتَحُوْاانہوں نے کھولا
مَتَٰعَهُمۡمَتَاعَهُمْاپنے سامان کو
وَجَدُواْوَجَدُوْاانہوں نے پایا
بِضَٰعَتَهُمۡبِضَاعَتَهُمْاپنا سرمایہ
رُدَّتۡرُدَّتْلوٹادیا گیا تھا
إِلَيۡهِمۡۖاِلَيْهِمْؕان کی طرف
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
يَٰٓأَبَانَايٰٓاَبَانَااے ہمارے ابا جان
مَاکیا
نَبۡغِيۖنَبْغِيْؕہم (اور) چاہتے ہیں
هَٰذِهِۦهٰذِهٖیہ ہماری
بِضَٰعَتُنَابِضَاعَتُنَاپونچی ہے
رُدَّتۡرُدَّتْلوٹائی گئی ہے
إِلَيۡنَاۖاِلَيْنَاۚہماری طرف
وَنَمِيرُوَنَمِيْرُاور ہم غلہ لائیں گے
أَهۡلَنَااَهْلَنَااپنے گھر والوں کے لئے
وَنَحۡفَظُوَنَحْفَظُاور ہم حفاظت کریں گے
أَخَانَااَخَانَااپنے بھائی کی
وَنَزۡدَادُوَنَزْدَادُاور ہم زیادہ لائیں گے
كَيۡلَكَيْلَبھر غلہ
بَعِيرٖۖبَعِيْرٍؕاونٹ
ذَٰلِكَذٰلِكَیہ
كَيۡلٞكَيْلٌغلہ ہے
يَسِيرٞيَّسِيْرٌآسان
65
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
قَالَکہا
لَنۡلَنْہرگز نہ
أُرۡسِلَهُۥاُرْسِلَهٗمیں بھیجوں گا اس کو
مَعَكُمۡمَعَكُمْتمہارے ساتھ
حَتَّىٰحَتّٰيیہاں تک کہ
تُؤۡتُونِتُو͏ٔ͏ْتُوْنِتم دو مجھ کو
مَوۡثِقٗامَوْثِقًاپختہ وعدہ اپنا
مِّنَطرف سے
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کی
لَتَأۡتُنَّنِيلَتَاْتُنَّنِيْالبتہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس
بِهِۦٓبِهٖٓاس کو
إِلَّآاِلَّا͏ٓمگر
أَناَنْیہ کہ
يُحَاطَيُّحَاطَگھیر لیا جائے
بِكُمۡۖبِكُمْۚتمہیں
فَلَمَّآفَلَمَّا͏ٓپھر جب
ءَاتَوۡهُاٰتَوْهُانہوں نے دیا اس کو
مَوۡثِقَهُمۡمَوْثِقَهُمْپختہ وعدہ اپنا
قَالَاس نے کہا
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ
عَلَىٰعَلٰياس پر
مَاجو
نَقُولُنَقُوْلُہم کہتے ہیں
وَكِيلٞوَكِيْلٌکار ساز ہے/ نگہبان ہے
66
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
63 جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں 64 (یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے 65 اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے 66 (یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
فَلۡيَتَوَكَّلِفَلْيَتَوَكَّلِپس چاہیے کہ توکل کیا کریں
ٱلۡمُتَوَكِّلُونَالْمُتَوَكِّلُوْنَتوکل کرنے والے
67
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
وَلَمَّااور جب
دَخَلُواْدَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
مِنۡمِنْسے
حَيۡثُحَيْثُجہاں
أَمَرَهُمۡاَمَرَهُمْحکم دیا تھا ان کو
أَبُوهُماَبُوْهُمْؕان کے باپ نے
مَّامَانہ
كَانَتھا کہ
يُغۡنِييُغْنِيْکام آتا
عَنۡهُمعَنْهُمْان کو
مِّنَسے
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ
مِنمِنْ—
شَيۡءٍشَيْءٍکچھ بھی
إِلَّااِلَّامگر
حَاجَةٗحَاجَةًایک حاجت تھی
فِيفِيْمیں
نَفۡسِنَفْسِدل (میں)
يَعۡقُوبَيَعْقُوْبَیعقوب کے
قَضَىٰهَاۚقَضٰىهَاؕاس نے پورا کیا اس کو
وَإِنَّهُۥوَاِنَّهٗاور بیشک وہ
لَذُولَذُوْوالا تھا
عِلۡمٖعِلْمٍالبتہ علم
لِّمَاواسطے اس کے جو
عَلَّمۡنَٰهُعَلَّمْنٰهُسکھایا تھا ہم نے اس کو
وَلَٰكِنَّوَلٰكِنَّلیکن
أَكۡثَرَاَكْثَرَاکثر
ٱلنَّاسِالنَّاسِلوگ
لَانہیں
يَعۡلَمُونَيَعْلَمُوْنَعلم رکھتے
68
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
67 اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے 68 اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
فَلَمَّاپھر جب
جَهَّزَهُمجَهَّزَهُمْاس نے تیار کرکے دیا ان کو
بِجَهَازِهِمۡبِجَهَازِهِمْان کا سامان
جَعَلَاس نے رکھ دیا
ٱلسِّقَايَةَالسِّقَايَةَپانی کا ایک پیالہ/ آب خوردہ
فِيفِيْمیں
رَحۡلِرَحْلِسامان م (میں)
أَخِيهِاَخِيْهِاپنے بھائی کے
ثُمَّپھر
أَذَّنَاَذَّنَپکارا
مُؤَذِّنٌمُو͏ٔ͏َذِّنٌایک پکارنے والے نے
أَيَّتُهَااَيَّتُهَااے
ٱلۡعِيرُالْعِيْرُقافلے والو
إِنَّكُمۡاِنَّكُمْبیشک تم
لَسَٰرِقُونَلَسٰرِقُوْنَالبتہ چور ہو
70
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
وَأَقۡبَلُواْوَاَقْبَلُوْااور وہ آئے / متوجہ ہوئے
عَلَيۡهِمعَلَيْهِمْان پر
مَّاذَاکیا کچھ
تَفۡقِدُونَتَفْقِدُوْنَتم گم پاتے ہو
71
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
نَفۡقِدُنَفْقِدُہم گم پاتے ہیں
صُوَاعَپیمانہ
ٱلۡمَلِكِالْمَلِكِبادشاہ کا
وَلِمَنوَلِمَنْاور واسطے اس کے
جَآءَجَا࢜ءَجولائے
بِهِۦبِهٖاس کو
حِمۡلُحِمْلُبوجھ ہے
بَعِيرٖبَعِيْرٍایک اونٹ کا
وَأَنَا۠وَّاَنَااور میں
بِهِۦبِهٖساتھ اس کے ذمہ دار ہوں
زَعِيمٞزَعِيْمٌکفیل ہوں
72
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
69 اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا 70 جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو 71 وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے 72 وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
فَمَاتو کیا
جَزَٰٓؤُهُۥٓجَزَا࢜و͏ٔ͏ُهٗٓبدلہ ہے اس کا / سزا ہے اس کی
إِناِنْاگر
كُنتُمۡكُنْتُمْہو تم
كَٰذِبِينَكٰذِبِيْنَجھوٹے
74
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
جَزَٰٓؤُهُۥجَزَا࢜و͏ٔ͏ُهٗاس کی جزاء /اس کا بدلہ
مَنمَنْوہ ہے
وُجِدَوُّجِدَجو وہ پایا گیا ہے
فِيفِيْمیں
رَحۡلِهِۦرَحْلِهٖاس کے سامان
فَهُوَتو وہی
جَزَٰٓؤُهُۥۚجَزَا࢜و͏ٔ͏ُهٗؕبدلہ ہے اس کا
كَذَٰلِكَكَذٰلِكَاس طرح
نَجۡزِينَجْزِيہم بدلہ دیتے ہیں
ٱلظَّٰلِمِينَالظّٰلِمِيْنَظالموں کو
75
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
فَبَدَأَفَبَدَاَتو وہ شروع ہوگیا
بِأَوۡعِيَتِهِمۡبِاَوْعِيَتِهِمْان کے تھیلوں کے ساتھ
قَبۡلَقَبْلَپہلے
وِعَآءِوِعَا࢜ءِتھیلے کے
أَخِيهِاَخِيْهِاپنے بھائی کے
ثُمَّپھر
ٱسۡتَخۡرَجَهَااسْتَخْرَجَهَانکال لیا اس کو
مِنمِنْسے
وِعَآءِوِّعَا࢜ءِتھیلے
أَخِيهِۚاَخِيْهِؕاپنے بھائی کے
كَذَٰلِكَكَذٰلِكَاسی طرح
كِدۡنَاكِدْنَاتدبیر کی ہم
لِيُوسُفَۖلِيُوْسُفَؕیوسف کے لئے
مَانہ
كَانَتھا
لِيَأۡخُذَلِيَاْخُذَکے لے لے
أَخَاهُاَخَاهُاپنے بھائی کو
فِيفِيْمیں
دِينِدِيْنِدین
ٱلۡمَلِكِالْمَلِكِبادشاہ کے
إِلَّآاِلَّا͏ٓمگر
أَناَنْیہ کہ
يَشَآءَيَّشَا࢜ءَچاہتا ہے
ٱللَّهُۚاللّٰهُؕاللہ
نَرۡفَعُنَرْفَعُہم بلند کرتے ہیں
دَرَجَٰتٖدَرَجٰتٍدرجے
مَّنمَّنْجس کے
نَّشَآءُۗنَّشَا࢜ءُؕہم چاہتے ہیں
وَفَوۡقَوَفَوْقَاور اوپر
كُلِّہر
ذِيذِيْوالے کے
عِلۡمٍعِلْمٍعلم
عَلِيمٞعَلِيْمٌایک علم والا ہے
76
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
73 وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں 74 بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا 75 انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں 76 پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
يَٰٓأَيُّهَايٰٓاَيُّهَااے
ٱلۡعَزِيزُالْعَزِيْزُعزیز
إِنَّاِنَّبیشک
لَهُۥٓلَهٗٓاس کا
أَبٗااَبًاباپ
شَيۡخٗاشَيْخًابوڑھا ہے
كَبِيرٗاكَبِيْرًابڑا
فَخُذۡفَخُذْپس لے لے
أَحَدَنَااَحَدَنَاہم میں سے کسی ایک کو
مَكَانَهُۥٓۖمَكَانَهٗۚاس کی جگہ
إِنَّااِنَّابیشک ہم
نَرَىٰكَنَرٰىكَہم دیکھتے ہیں تجھ کو
مِنَمیں سے
ٱلۡمُحۡسِنِينَالْمُحْسِنِيْنَمحسنین
78
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
قَالَاس نے کہا
مَعَاذَپناہ
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کی
أَناَنْکہ ہم
نَّأۡخُذَنَّاْخُذَلیں
إِلَّااِلَّامگر
مَنمَنْاسے
وَجَدۡنَاوَّجَدْنَاجس کو پایا ہم نے
مَتَٰعَنَامَتَاعَنَااپنا سامان
عِندَهُۥٓعِنْدَهٗٓۙاس کے پاس
إِنَّآاِنَّا͏ٓبیشک ہم
إِذٗااِذًاتب البتہ
لَّظَٰلِمُونَلَّظٰلِمُوْنَظالم ہوں گے
79
(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں
77 (برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے 78 وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں 79 (یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
ٱرۡجِعُوٓاْاِرْجِعُوْٓالوٹ آؤ
إِلَىٰٓاِلٰٓيطرف
أَبِيكُمۡاَبِيْكُمْاپنے باپ کی
فَقُولُواْفَقُوْلُوْاپھر کہو
يَٰٓأَبَانَآيٰٓاَبَانَا͏ٓاے ہمارے ابا جان
إِنَّاِنَّبیشک
ٱبۡنَكَابْنَكَتیرے بیٹے نے
سَرَقَسَرَقَۚچوری کی ہے
وَمَااور ہم نے
شَهِدۡنَآشَهِدْنَا͏ٓدیکھا نہیں
إِلَّااِلَّامگر
بِمَاجو ہم کو
عَلِمۡنَاعَلِمْنَامعلوم ہوا
وَمَااور نہیں
كُنَّاہیں ہم
لِلۡغَيۡبِلِلْغَيْبِغیب کے لئے
حَٰفِظِينَحٰفِظِيْنَحفاظت کرنے والے
81
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
وَسۡـَٔلِوَسْـَٔلِاور پوچھ لو
ٱلۡقَرۡيَةَالْقَرْيَةَبستی والوں سے
ٱلَّتِيالَّتِيْوہ جو
كُنَّاتھے ہم
فِيهَافِيْهَااس میں
وَٱلۡعِيرَوَالْعِيْرَاور اہل قافلہ سے
ٱلَّتِيٓالَّتِيْٓوہ جو
أَقۡبَلۡنَااَقْبَلْنَاہم آئے ہیں
فِيهَاۖفِيْهَاؕاس میں
وَإِنَّاوَاِنَّااور بیشک ہم
لَصَٰدِقُونَلَصٰدِقُوْنَالبتہ سچے ہیں
82
اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
80 جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے 81 تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے 82 اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
وَتَوَلَّىٰوَتَوَلّٰياور اس نے منہ پھیرلیا
عَنۡهُمۡعَنْهُمْان سے
وَقَالَاور بولا
يَٰٓأَسَفَىٰيٰٓاَسَفٰيہائے افسوس
عَلَىٰعَلٰيپر
يُوسُفَيُوْسُفَیوسف
وَٱبۡيَضَّتۡوَابْيَضَّتْاور سفید ہوگئیں
عَيۡنَاهُعَيْنٰهُاس کی دونوں آنکھیں
مِنَسے
ٱلۡحُزۡنِالْحُزْنِغم کی وجہ
فَهُوَتو وہ
كَظِيمٞكَظِيْمٌسخت غمگین تھے
84
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
تَٱللَّهِتَاللّٰهِقسم اللہ کی
تَفۡتَؤُاْتَفْتَو͏ٔ͏ُاتو ہمیشہ رہتا ہے
تَذۡكُرُتَذْكُرُذکر کرتا/ یاد کرتا
يُوسُفَيُوْسُفَیوسف کو
حَتَّىٰحَتّٰيیہاں تک کہ
تَكُونَتَكُوْنَتو ہوجائے
حَرَضًابیمار/ بیکار
أَوۡاَوْیا
تَكُونَتَكُوْنَتو ہوجائے
مِنَمیں سے
ٱلۡهَٰلِكِينَالْهٰلِكِيْنَہلاک ہونے والوں
85
بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے
قَالَاس نے کہا
إِنَّمَآاِنَّمَا͏ٓبیشک
أَشۡكُواْاَشْكُوْامیں شکایت کرتاہوں
بَثِّيبَثِّيْاپنی پریشانی کی
وَحُزۡنِيٓوَحُزْنِيْٓاور اپنے غم کی
إِلَىاِلَيطرف
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کی
وَأَعۡلَمُوَاَعْلَمُاور میں جانتا ہوں
مِنَسے
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کی طرف (سے)
مَاجو
لَانہیں
تَعۡلَمُونَتَعْلَمُوْنَتم جانتے
86
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
يَٰبَنِيَّيٰبَنِيَّاے میرے بچو !
ٱذۡهَبُواْاذْهَبُوْاجاؤ
فَتَحَسَّسُواْفَتَحَسَّسُوْاپس ٹوہ لگاؤ
مِنمِنْسے
يُوسُفَيُّوْسُفَیوسف کی
وَأَخِيهِوَاَخِيْهِاور اس کے بھائی کی
وَلَااور مت
تَاْيۡـَٔسُواْتَايْـَٔسُوْامایوس ہو
مِنمِنْسے
رَّوۡحِرَّوْحِرحمت
ٱللَّهِۖاللّٰهِؕاللہ کی
إِنَّهُۥاِنَّهٗکیونکہ
لَانہیں
يَاْيۡـَٔسُيَايْـَٔسُمایوس ہوتے
مِنمِنْسے
رَّوۡحِرَّوْحِرحمت
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کی
إِلَّااِلَّاسوائے
ٱلۡقَوۡمُالْقَوْمُقوم کے
ٱلۡكَٰفِرُونَالْكٰفِرُوْنَکافر
87
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
83 (جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے 84 پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا 85 بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے 86 انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے 87 بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
ٱلۡمُتَصَدِّقِينَالْمُتَصَدِّقِيْنَصدقہ کرنے والوں کو
88
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
قَالَاس نے کہا
هَلۡهَلْکیا
عَلِمۡتُمعَلِمْتُمْتم جانتے ہو
مَّاکیا
فَعَلۡتُمفَعَلْتُمْکیا تھا تم نے
بِيُوسُفَبِيُوْسُفَیوسف کے ساتھ
وَأَخِيهِوَاَخِيْهِاور اس کے بھائی کے
إِذۡاِذْجب
أَنتُمۡاَنْتُمْتھے تم
جَٰهِلُونَجٰهِلُوْنَلاعلم
89
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
قَالُوٓاْقَالُوْٓاانہوں نے کہا
أَءِنَّكَءَاِنَّكَکیا بیشک تو
لَأَنتَلَاَنْتَالتبہ تو ہی
يُوسُفُۖيُوْسُفُؕیوسف ہے
قَالَاس نے کہا
أَنَا۠اَنَامیں
يُوسُفُيُوْسُفُیوسف ہوں
وَهَٰذَآوَهٰذَا͏ٓاور یہ
أَخِيۖاَخِيْؗمیرا بھائی ہے
قَدۡقَدْتحقیق
مَنَّاحسان کیا
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ نے
عَلَيۡنَآۖعَلَيْنَاؕہم پر
إِنَّهُۥاِنَّهٗبیشک وہ
مَنمَنْجو
يَتَّقِيَّتَّقِتقویٰ اختیار کرے
وَيَصۡبِرۡوَيَصْبِرْاور صبر کرے
فَإِنَّفَاِنَّتو یقیناً
ٱللَّهَاللّٰهَاللہ تعالیٰ
لَانہیں
يُضِيعُيُضِيْعُضائع کرتا
أَجۡرَاَجْرَاجر
ٱلۡمُحۡسِنِينَالْمُحْسِنِيْنَمحسنین کا
90
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
تَٱللَّهِتَاللّٰهِاللہ کی قسم
لَقَدۡلَقَدْالبتہ تحقیق
ءَاثَرَكَاٰثَرَكَترجیح دی تجھ کو
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ نے
عَلَيۡنَاعَلَيْنَاہم پر
وَإِنوَاِنْاور بیشک
كُنَّاتھے ہم
لَخَٰطِـِٔينَلَخٰطِـِٕيْنَالبتہ خطا کار
91
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
قَالَاس نے کہا
لَانہیں
تَثۡرِيبَتَثْرِيْبَکوئی الزام
عَلَيۡكُمُعَلَيْكُمُتم پر
ٱلۡيَوۡمَۖالْيَوْمَؕآج
يَغۡفِرُيَغْفِرُمعاف کردے
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ
لَكُمۡۖلَكُمْؗتم کو
وَهُوَاور وہ
أَرۡحَمُاَرْحَمُسب سے بڑھ کر
ٱلرَّٰحِمِينَالرّٰحِمِيْنَرحم فرمانے والا ہے
92
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
ٱذۡهَبُواْاِذْهَبُوْالے جاؤ
بِقَمِيصِيبِقَمِيْصِيْمیری قمیص کو
هَٰذَاهٰذَااس کو
فَأَلۡقُوهُفَاَلْقُوْهُپھر ڈال دو اس کو
عَلَىٰعَلٰيپر
وَجۡهِوَجْهِچہرے
أَبِياَبِيْمیرے باپ کے
يَأۡتِيَاْتِآجائے گا
بَصِيرٗابَصِيْرًاۚدیکھنے والا
وَأۡتُونِيوَاْتُوْنِيْاور لے آؤ میرے پاس
بِأَهۡلِكُمۡبِاَهْلِكُمْاپنے گھر والوں کو
أَجۡمَعِينَاَجْمَعِيْنَسب کے سب کو
93
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
88 جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے 89 (یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا 90 وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا 91 وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے 92 (یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے 93 یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
تَٱللَّهِتَاللّٰهِقسم اللہ کی
إِنَّكَاِنَّكَبیشک تو
لَفِيلَفِيْالبتہ میں ہو
ضَلَٰلِكَضَلٰلِكَاپنے خبط
ٱلۡقَدِيمِالْقَدِيْمِپرانے
95
وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں
فَلَمَّآفَلَمَّا͏ٓپھر جب
أَناَنْیہ کہ
جَآءَجَا࢜ءَآگیا
ٱلۡبَشِيرُالْبَشِيْرُخوش خبری دینے والا
أَلۡقَىٰهُاَلْقٰىهُاس نے ڈالا اس کو
عَلَىٰعَلٰيپر
وَجۡهِهِۦوَجْهِهٖاس کے چہرے
فَٱرۡتَدَّفَارْتَدَّتو ہوگیا وہ
بَصِيرٗاۖبَصِيْرًاۚدیکھنے والا
قَالَاس نے کہا
أَلَمۡاَلَمْکیا نہیں
أَقُلاَقُلْمیں نے کہا تھا
لَّكُمۡلَّكُمْۚۙتم سے
إِنِّيٓاِنِّيْٓبیشک میں
أَعۡلَمُاَعْلَمُجانتا ہوں
مِنَطرف سے
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کی
مَاجو
لَانہیں
تَعۡلَمُونَتَعْلَمُوْنَتم جانتے
96
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
يَٰٓأَبَانَايٰٓاَبَانَااے ہمارے ابا جان
ٱسۡتَغۡفِرۡاسْتَغْفِرْبخشش مانگئے
لَنَاہمارے لئے
ذُنُوبَنَآذُنُوْبَنَا͏ٓہمارے گناہوں کی
إِنَّااِنَّابیشک ہم
كُنَّاتھے ہم
خَٰطِـِٔينَخٰطِـِٕيْنَخطا کار
97
بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے
قَالَکہا
سَوۡفَسَوْفَعنقریب
أَسۡتَغۡفِرُاَسْتَغْفِرُمیں بخشش مانگوں گا
لَكُمۡلَكُمْتمہارے لیئے
رَبِّيٓۖرَبِّيْؕاپنے رب سے
إِنَّهُۥاِنَّهٗبیشک وہ
هُوَوہ
ٱلۡغَفُورُالْغَفُوْرُغفور،
ٱلرَّحِيمُالرَّحِيْمُرحیم ہے
98
انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
94 اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے 95 وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں 96 جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے 97 بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے 98 انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
وَرَفَعَاور اوپر بٹھایا
أَبَوَيۡهِاَبَوَيْهِاپنے والدین کو
عَلَىعَلَيپر
ٱلۡعَرۡشِالْعَرْشِتخت
وَخَرُّواْوَخَرُّوْااور وہ سب گرپڑے
لَهُۥلَهٗاس کے لئے
سُجَّدٗاۖسُجَّدًاۚسجدہ کرتے ہوئے
وَقَالَاور کہا
يَٰٓأَبَتِيٰٓاَبَتِاے میرے ابا جان
هَٰذَاهٰذَایہ
تَأۡوِيلُتَاْوِيْلُتعبیر ہے
رُءۡيَٰيَرُءْيَايَمیرے خواب کی
مِنمِنْسے
قَبۡلُقَبْلُؗجو پہلے (سے) تھا
قَدۡقَدْتحقیق
جَعَلَهَابنادیا اس کو
رَبِّيرَبِّيْمیرے رب نے
حَقّٗاۖحَقًّاؕسچا
وَقَدۡوَقَدْاور تحقیق
أَحۡسَنَاَحْسَنَاسنے احسان کیا
بِيٓبِيْٓمیرے ساتھ
إِذۡاِذْجب
أَخۡرَجَنِياَخْرَجَنِيْاس نے نکالا مجھ کو
مِنَسے
ٱلسِّجۡنِالسِّجْنِقید خانے
وَجَآءَوَجَا࢜ءَاور لے آیا
بِكُمبِكُمْتم کو
مِّنَسے
ٱلۡبَدۡوِالْبَدْوِجنگل
مِنۢمِنْۢسے
بَعۡدِبَعْدِاس کے بعد
أَناَنْکہ
نَّزَغَوسوسہ
ٱلشَّيۡطَٰنُالشَّيْطٰنُشیطان نے
بَيۡنِيبَيْنِيْمیرے درمیان
وَبَيۡنَوَبَيْنَاور درمیان
إِخۡوَتِيٓۚاِخْوَتِيْؕمیرے بھائیوں کے
إِنَّاِنَّبیشک
رَبِّيرَبِّيْمیرا رب
لَطِيفٞلَطِيْفٌباریک بین ہے
لِّمَاواسطے اس کے
يَشَآءُۚيَشَا࢜ءُؕجو وہ چاہتا ہے
إِنَّهُۥاِنَّهٗبیشک وہ
هُوَوہ
ٱلۡعَلِيمُالْعَلِيْمُعلم والا ہے،
ٱلۡحَكِيمُالْحَكِيْمُحکمت والا ہے
100
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
۞½ Hizb 25
رَبِّاے میرے رب
قَدۡقَدْتحقیق
ءَاتَيۡتَنِياٰتَيْتَنِيْدیا تو نے مجھ کو
مِنَمیں سے
ٱلۡمُلۡكِالْمُلْكِبادشاہت
وَعَلَّمۡتَنِيوَعَلَّمْتَنِيْاور سکھایا تو نے مجھ کو
مِنمِنْسے
تَأۡوِيلِتَاْوِيْلِتعبیر میں (سے)
ٱلۡأَحَادِيثِۚالْاَحَادِيْثِۚخوابوں کی
فَاطِرَپیدا کرنے والے
ٱلسَّمَٰوَٰتِالسَّمٰوٰتِآسمانوں
وَٱلۡأَرۡضِوَالْاَرْضِࣞاور زمین کے
أَنتَاَنْتَتو میرا
وَلِيِّۦوَلِيّٖدوست ہے
فِيمیں
ٱلدُّنۡيَاالدُّنْيَادنیا
وَٱلۡأٓخِرَةِۖوَالْاٰخِرَةِۚاور آخرت میں
تَوَفَّنِيتَوَفَّنِيْتو فوت کر مجھ کو
مُسۡلِمٗامُسْلِمًااسلام کی حالت میں
وَأَلۡحِقۡنِيوَّاَلْحِقْنِيْاور ملا دے مجھ کو
بِٱلصَّٰلِحِينَبِالصّٰلِحِيْنَصالح لوگوں کے ساتھ
101
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
99 جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا 100 اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے 101 (جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
وَمَآوَمَا͏ٓاور نہیں
أَكۡثَرُاَكْثَرُاکثر
ٱلنَّاسِالنَّاسِلوگ
وَلَوۡوَلَوْخواہ تم
حَرَصۡتَحَرَصْتَحریص ہو
بِمُؤۡمِنِينَبِمُو͏ٔ͏ْمِنِيْنَایمان لانے والے
103
اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں
وَمَااور نہیں
تَسۡـَٔلُهُمۡتَسْـَٔلُهُمْتم سوال کرتے ان سے
عَلَيۡهِعَلَيْهِاس پر
مِنۡمِنْکسی
أَجۡرٍۚاَجْرٍؕاجر کا
إِنۡاِنْنہیں ہے
هُوَوہ
إِلَّااِلَّامگر
ذِكۡرٞذِكْرٌایک ذکر
لِّلۡعَٰلَمِينَلِّلْعٰلَمِيْنَسارے جہان والوں کے لئے
104
اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے
عRuku 12 of 12 · 7 Ayahs
وَكَأَيِّنوَكَاَيِّنْاور کتنی ہی
مِّنۡمِّنْمیں سے
ءَايَةٖاٰيَةٍنشانیوں
فِيمیں
ٱلسَّمَٰوَٰتِالسَّمٰوٰتِآسمانوں
وَٱلۡأَرۡضِوَالْاَرْضِاور زمین (میں)
يَمُرُّونَيَمُرُّوْنَوہ گزرتے رہتے ہیں
عَلَيۡهَاعَلَيْهَاان پر
وَهُمۡوَهُمْاور وہ
عَنۡهَاعَنْهَاان سے
مُعۡرِضُونَمُعْرِضُوْنَمنہ موڑنے والے ہیں
105
اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں
وَمَااور نہیں
يُؤۡمِنُيُو͏ٔ͏ْمِنُایمان لاتے
أَكۡثَرُهُماَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر
بِٱللَّهِبِاللّٰهِاللہ کے ساتھ
إِلَّااِلَّامگر
وَهُموَهُمْاور وہ
مُّشۡرِكُونَمُّشْرِكُوْنَشرک کرنے والے ہوتے ہیں
106
اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں
أَفَأَمِنُوٓاْاَفَاَمِنُوْٓاکیا بھلا وہ بےخوف ہوگئے/ امن میں آگئے
أَناَنْکہ
تَأۡتِيَهُمۡتَاْتِيَهُمْآئے ان کے پاس
غَٰشِيَةٞغَاشِيَةٌایک ڈھانپ لینے والی
مِّنۡمِّنْسے
عَذَابِعذاب میں (سے)
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کے
أَوۡاَوْیا
تَأۡتِيَهُمُتَاْتِيَهُمُآئے ان کے پاس
ٱلسَّاعَةُالسَّاعَةُقیامت کی گھڑی
بَغۡتَةٗبَغْتَةًاچانک
وَهُمۡوَّهُمْاور وہ
لَانہ
يَشۡعُرُونَيَشْعُرُوْنَشعور رکھتے ہوں
107
کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
102 (اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے 103 اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں 104 اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے 105 اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں 106 اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں 107 کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
وَمَآوَمَا͏ٓاور نہیں
أَرۡسَلۡنَااَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
مِنمِنْآپ سے
قَبۡلِكَقَبْلِكَپہلے
إِلَّااِلَّامگر
رِجَالٗارِجَالًامردوں کو
نُّوحِيٓنُّوْحِيْٓہم وحی کرتے تھے
إِلَيۡهِماِلَيْهِمْان کی طرف
مِّنۡمِّنْمیں سے
أَهۡلِاَهْلِوالوں
ٱلۡقُرَىٰٓۗالْقُرٰيؕبستی
أَفَلَمۡاَفَلَمْکیا پھر نہیں
يَسِيرُواْيَسِيْرُوْاوہ چلے پھرے
فِيمیں
ٱلۡأَرۡضِالْاَرْضِزمین
فَيَنظُرُواْفَيَنْظُرُوْاتو وہ دیکھتے
كَيۡفَكَيْفَکس طرح
كَانَہوا
عَٰقِبَةُعَاقِبَةُانجام
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَان لوگوں کا
مِنمِنْان سے
قَبۡلِهِمۡۗقَبْلِهِمْؕپہلے
وَلَدَارُاور البتہ گھر
ٱلۡأٓخِرَةِالْاٰخِرَةِآخرت کا
خَيۡرٞخَيْرٌبہتر ہے
لِّلَّذِينَلِّلَّذِيْنَان لوگوں کے لئے
ٱتَّقَوۡاْۚاتَّقَوْاؕجو تقویٰ اختیار کریں
أَفَلَااَفَلَاکیا تم
تَعۡقِلُونَتَعْقِلُوْنَعقل سے کام نہیں لیتے ہو
109
اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
ٱسۡتَيۡـَٔسَاسْتَيْـَٔسَمایوس ہوگئے
ٱلرُّسُلُالرُّسُلُرسول
وَظَنُّوٓاْوَظَنُّوْٓااور لوگوں نے سمجھا
أَنَّهُمۡاَنَّهُمْکہ بیشک وہ
قَدۡقَدْتحقیق
كُذِبُواْكُذِبُوْاوہ جھوٹ بولے گئے
جَآءَهُمۡجَا࢜ءَهُمْآئی ان کے پاس
نَصۡرُنَانَصْرُنَاۙمدد ہماری
فَنُجِّيَتو بچالیا گیا
مَنمَنْجس کو
نَّشَآءُۖنَّشَا࢜ءُؕہم نے چاہا
وَلَااور نہیں
يُرَدُّپھیرا جاتا
بَأۡسُنَابَاْسُنَاعذاب ہمارا
عَنِسے
ٱلۡقَوۡمِالْقَوْمِقوم
ٱلۡمُجۡرِمِينَالْمُجْرِمِيْنَمجرم
110
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا
لَقَدۡلَقَدْالبتہ تحقیق
كَانَہے
فِيفِيْمیں
قَصَصِهِمۡقَصَصِهِمْان کے قصوں
عِبۡرَةٞعِبْرَةٌعبرت
لِّأُوْلِيلِّاُولِيوالوں کے لئے
ٱلۡأَلۡبَٰبِۗالْاَلْبَابِؕعقل
مَانہیں
كَانَہے
حَدِيثٗاحَدِيْثًابات
يُفۡتَرَىٰيُّفْتَرٰيجو گھڑ لی
وَلَٰكِنوَلٰكِنْلیکن
تَصۡدِيقَتَصْدِيْقَتصدیق ہے
ٱلَّذِيالَّذِيْاس چیز کی
بَيۡنَبَيْنَپہلے ہے
يَدَيۡهِيَدَيْهِجو اس سے
وَتَفۡصِيلَوَتَفْصِيْلَاور تفصیل
كُلِّہر
شَيۡءٖشَيْءٍچیز کی
وَهُدٗىوَّهُدًياور ہدایت
وَرَحۡمَةٗوَّرَحْمَةًاور رحمت ہے
لِّقَوۡمٖلِّقَوْمٍاس قوم کے لئے
يُؤۡمِنُونَيُّو͏ٔ͏ْمِنُوْنَجو ایمان لاتی ہو
111
ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
108 کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں 109 اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ 110 یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا 111 ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے