SaaliheenSign in
18

الكهف

Al-Kahf · Meccan · 110 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

Ruku 1 of 12 · 12 Ayahs

کتاب کا مقصد: انذار اور بشارت 1–5

ٱلۡحَمۡدُاَلْحَمْدُسب تعریف
لِلَّهِلِلّٰهِاللہ کے لئے ہے
ٱلَّذِيٓالَّذِيْٓوہ ذات
أَنزَلَاَنْزَلَجس نے اتارا
عَلَىٰعَلٰيپر
عَبۡدِهِعَبْدِهِاپنے بندے
ٱلۡكِتَٰبَالْكِتٰبَکتاب کو
وَلَمۡوَلَمْاور نہیں
يَجۡعَليَجْعَلْبنایا
لَّهُۥلَّهٗاس کے لئے
عِوَجَاۜعِوَجًاکوئی ٹیڑھا پن

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی

قَيِّمٗاقَيِّمًادرست کرنے والی ہے
لِّيُنذِرَلِّيُنْذِرَتاکہ ڈرائے
بَأۡسٗابَاْسًاعذاب سے
شَدِيدٗاشَدِيْدًاسخت
مِّنمِّنْسے
لَّدُنۡهُلَّدُنْهُاس کے پاس (سے)
وَيُبَشِّرَاور خوش خبری دے دے
ٱلۡمُؤۡمِنِينَالْمُو͏ٔ͏ْمِنِيْنَان مومنوں کو
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَجو
يَعۡمَلُونَيَعْمَلُوْنَعمل کرتے ہیں
ٱلصَّٰلِحَٰتِالصّٰلِحٰتِاچھے/ نیک
أَنَّاَنَّہے
لَهُمۡلَهُمْان کے لئے
أَجۡرًااَجْرًااجر ہے
حَسَنٗاحَسَنًااچھا

سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ لوگوں کو عذاب سخت سے جو اس کی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ اُن کے لئے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی) بہشت ہے

مَّٰكِثِينَمَّاكِثِيْنَرہنے والے ہیں
فِيهِفِيْهِاس میں
أَبَدٗااَبَدًاہمیشہ ہمیشہ

جس میں وہ ابدا لاآباد رہیں گے

وَيُنذِرَوَّيُنْذِرَاورڈرائے
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَان لوگوں کو
قَالُواْقَالُواجنہوں نے کہا
ٱتَّخَذَاتَّخَذَبنا لیا
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ نے
وَلَدٗاوَلَدًاایک بیٹا/ بچہ

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے

مَّامَانہیں
لَهُملَهُمْان کے لئے
بِهِۦبِهٖاس کا
مِنۡمِنْکوئی
عِلۡمٖعِلْمٍعلم
وَلَاوَّلَااور نہ
لِأٓبَآئِهِمۡۚلِاٰبَا࢜ىِٕهِمْؕان کے آباؤ اجداد کے لئے
كَبُرَتۡكَبُرَتْسبہت بڑی ہے
كَلِمَةٗكَلِمَةًبات
تَخۡرُجُتَخْرُجُنکلتی ہے
مِنۡمِنْسے
أَفۡوَٰهِهِمۡۚاَفْوَاهِهِمْؕان کے مونہوں (سے)
إِناِنْنہیں
يَقُولُونَيَّقُوْلُوْنَوہ کہہ رہے
إِلَّااِلَّامگر
كَذِبٗاكَذِبًاایک جھوٹ

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا۔ (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں) کہ یہ جو کہتے ہیں محض جھوٹ ہے

1 سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی 2 سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ لوگوں کو عذاب سخت سے جو اس کی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ اُن کے لئے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی) بہشت ہے 3 جس میں وہ ابدا لاآباد رہیں گے 4 اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے 5 ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا۔ (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں) کہ یہ جو کہتے ہیں محض جھوٹ ہے

نبی کا غم اور دنیا کی آزمائش 6–8

فَلَعَلَّكَپس شاید کہ آپ
بَٰخِعٞبَاخِعٌہلاک کرنے والے ہیں
نَّفۡسَكَنَّفْسَكَاپنی جان کو
عَلَىٰٓعَلٰٓيپر
ءَاثَٰرِهِمۡاٰثَارِهِمْان کے پیچھے/ ان کے آثار
إِناِنْاگر
لَّمۡلَّمْنہ
يُؤۡمِنُواْيُو͏ٔ͏ْمِنُوْاوہ ایمان لائیں
بِهَٰذَابِهٰذَاکے ساتھ
ٱلۡحَدِيثِالْحَدِيْثِاس کلام
أَسَفًااَسَفًابہت افسوس کرکے

(اے پیغمبر) اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم کے ان پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

إِنَّااِنَّابیشک ہم نے
جَعَلۡنَاجَعَلْنَابنایا ہم نے
مَاجو
عَلَىعَلَيپر
ٱلۡأَرۡضِالْاَرْضِزمین ہے
زِينَةٗزِيْنَةًخوبصورتی
لَّهَااس کے لئے
لِنَبۡلُوَهُمۡلِنَبْلُوَهُمْتاکہ ہم آزمائیں ان کو
أَيُّهُمۡاَيُّهُمْکون سا ان میں سے
أَحۡسَنُاَحْسَنُزیادہ اچھا ہے
عَمَلٗاعَمَلًاعمل میں

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے

وَإِنَّاوَاِنَّااور بیشک ہم
لَجَٰعِلُونَلَجٰعِلُوْنَالبتہ بنانے والے ہیں/ کرنے والے ہیں
مَاجو
عَلَيۡهَاعَلَيْهَااس پر ہے
صَعِيدٗاصَعِيْدًامٹی/ صاف میدان
جُرُزًابنجر/ بالکل ہموار

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کرکے) بنجر میدان کردیں گے

6 (اے پیغمبر) اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم کے ان پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے 7 جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے 8 اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کرکے) بنجر میدان کردیں گے

اصحاب کہف 9–12

أَمۡاَمْکیا
حَسِبۡتَحَسِبْتَکتم نے سمجھا
أَنَّاَنَّکے
أَصۡحَٰبَاَصْحٰبَبیشک والے
ٱلۡكَهۡفِالْكَهْفِکہف والے/ غار والے
وَٱلرَّقِيمِوَالرَّقِيْمِۙاور کتبے والے
كَانُواْكَانُوْاتھے
مِنۡمِنْمیں سے
ءَايَٰتِنَااٰيٰتِنَاہماری بہت نشانیوں
عَجَبًاعجیب

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہمارے نشانیوں میں سے عجیب تھے

إِذۡاِذْجب
أَوَىاَوَيپناہ لی
ٱلۡفِتۡيَةُالْفِتْيَةُچند نوجوانوں نے
إِلَىاِلَيکی طرف
ٱلۡكَهۡفِالْكَهْفِغار
فَقَالُواْفَقَالُوْاتو کہنے لگے
رَبَّنَآرَبَّنَا͏ٓاے ہمارے رب
ءَاتِنَااٰتِنَادے ہم کو
مِنمِنْسے
لَّدُنكَلَّدُنْكَاپنے پاس
رَحۡمَةٗرَحْمَةًرحمت
وَهَيِّئۡوَّهَيِّي͏ٔ͏ْاور مہیا کر
لَنَاہمارے لئے
مِنۡمِنْمیں سے
أَمۡرِنَااَمْرِنَاہمارے معاملے
رَشَدٗارَشَدًارہنمائی

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر

فَضَرَبۡنَافَضَرَبْنَاتو تھپکا ہم نے/ مارا ہم نے
عَلَىٰٓعَلٰٓيپر
ءَاذَانِهِمۡاٰذَانِهِمْان کے کانوں
فِيمیں
ٱلۡكَهۡفِالْكَهْفِغار
سِنِينَسِنِيْنَکئی سال
عَدَدٗاعَدَدًاتعداد میں

تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا

ثُمَّپھر
بَعَثۡنَٰهُمۡبَعَثْنٰهُمْاٹھایا ہم نے ان کو
لِنَعۡلَمَلِنَعْلَمَتاکہ ہم جان لیں
أَيُّاَيُّکون سا
ٱلۡحِزۡبَيۡنِالْحِزْبَيْنِدو گروہوں میں سے
أَحۡصَىٰاَحْصٰيزیادہ گننے والا ہے
لِمَاواسطے اس کے
لَبِثُوٓاْلَبِثُوْٓاوہ ٹھہرے رہے
أَمَدٗااَمَدًامدت کو

پھر ان کو جگا اُٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدّت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے

9 کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہمارے نشانیوں میں سے عجیب تھے 10 جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر 11 تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا 12 پھر ان کو جگا اُٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدّت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے

Ruku 2 of 12 · 5 Ayahs

نوجوانوں کا توحید پر ڈٹ جانا 13–16

نَّحۡنُنَحْنُہم
نَقُصُّہم سناتے ہیں/ بیان کرتے ہیں
عَلَيۡكَعَلَيْكَآپ پر
نَبَأَهُمنَبَاَهُمْان کی خبر
بِٱلۡحَقِّۚبِالْحَقِّؕحق کے ساتھ
إِنَّهُمۡاِنَّهُمْبیشک وہ
فِتۡيَةٌفِتْيَةٌچند نوجوان تھے
ءَامَنُواْاٰمَنُوْاجو ایمان لائے تھے
بِرَبِّهِمۡبِرَبِّهِمْاپنے رب کے ساتھ
وَزِدۡنَٰهُمۡوَزِدْنٰهُمْاور زیادہ دی تھی ہم نے ان کو
هُدٗىهُدًيہدایت

ہم اُن کے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی

وَرَبَطۡنَاوَّرَبَطْنَااور باندھ دیا ہم نے
عَلَىٰعَلٰيکو
قُلُوبِهِمۡقُلُوْبِهِمْان کے دلوں
إِذۡاِذْجب
قَامُواْقَامُوْاوہ کھڑے ہوئے
فَقَالُواْفَقَالُوْاپھر کہنے لگے
رَبُّنَارب ہمارا
رَبُّرب ہے
ٱلسَّمَٰوَٰتِالسَّمٰوٰتِآسمانوں کا
وَٱلۡأَرۡضِوَالْاَرْضِاور زمین کا
لَنلَنْہرگز نہیں
نَّدۡعُوَاْنَّدْعُوَا۟ہم پکاریں گے
مِنمِنْاس کے
دُونِهِۦٓدُوْنِهٖٓسوا
إِلَٰهٗاۖاِلٰهًاکسی الٰہ کو
لَّقَدۡلَّقَدْالبتہ تحقیق
قُلۡنَآقُلْنَا͏ٓکہی ہم نے
إِذٗااِذًاتب
شَطَطًاحق سے دور بات

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی

هَٰٓؤُلَآءِهٰٓو͏ٔ͏ُلَا࢜ءِیہ لوگ
قَوۡمُنَاقَوْمُنَاہماری قوم
ٱتَّخَذُواْاتَّخَذُوْاانہوں نے بنالیے ہیں
مِنمِنْاس کے
دُونِهِۦٓدُوْنِهٖٓسوا
ءَالِهَةٗۖاٰلِهَةًؕکچھ الٰہ/ معبود
لَّوۡلَالَوْلَاکیوں نہیں
يَأۡتُونَيَاْتُوْنَوہ لائے
عَلَيۡهِمعَلَيْهِمْان پر
بِسُلۡطَٰنِۭبِسُلْطٰنٍۢکوئی دلیل
بَيِّنٖۖبَيِّنٍؕواضح
فَمَنۡفَمَنْتو کون
أَظۡلَمُاَظْلَمُزیادہ بڑا ظالم ہے
مِمَّنِاس سے
ٱفۡتَرَىٰافْتَرٰيجو گھڑ لے
عَلَىعَلَيپر
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ
كَذِبٗاكَذِبًاجھوٹ

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے

وَإِذِوَاِذِاور جب
ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡاعْتَزَلْتُمُوْهُمْچھوڑ دیا تم نے ان کو
وَمَااور جن کی
يَعۡبُدُونَيَعْبُدُوْنَعبادت کررہے ہیں
إِلَّااِلَّاسوائے
ٱللَّهَاللّٰهَاللہ کے
فَأۡوُۥٓاْفَاْوٗٓاپس پناہ لو
إِلَىاِلَيطرف
ٱلۡكَهۡفِالْكَهْفِغار کی
يَنشُرۡيَنْشُرْنچھاور کرے گا/ پھیلائے گا
لَكُمۡلَكُمْتمہارے لیے
رَبُّكُمرَبُّكُمْرب تمہارا
مِّنمِّنْمیں سے
رَّحۡمَتِهِۦرَّحْمَتِهٖاپنی رحمت
وَيُهَيِّئۡوَيُهَيِّي͏ٔ͏ْاور مہیا کرے گا
لَكُملَكُمْتمہارے لئے
مِّنۡمِّنْسے
أَمۡرِكُماَمْرِكُمْتمہارے معاملے میں (سے)
مِّرۡفَقٗامِّرْفَقًاسہولت کا سامان

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا

13 ہم اُن کے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی 14 اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی 15 ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے 16 اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا

¼ Hizb 30

اصحاب کہف کی حفاظت 17–18

وَتَرَىوَتَرَياور تم دیکھتے
ٱلشَّمۡسَالشَّمْسَسورج کو
إِذَااِذَاجب
طَلَعَتطَلَعَتْوہ طلوع ہوتا کہ
تَّزَٰوَرُتَّزٰوَرُوہ بچ جاتا ہے
عَنعَنْسے
كَهۡفِهِمۡكَهْفِهِمْان کے غار
ذَاتَ—
ٱلۡيَمِينِالْيَمِيْنِدائیں جانب
وَإِذَاوَاِذَااور جب
غَرَبَتغَرَبَتْغروب ہوتا ہے
تَّقۡرِضُهُمۡتَّقْرِضُهُمْکترا جاتا ہے ان کو
ذَاتَ—
ٱلشِّمَالِالشِّمَالِبائیں جانب
وَهُمۡوَهُمْاور وہ
فِيفِيْ—
فَجۡوَةٖفَجْوَةٍایک کشادہ جگہ پر ہیں
مِّنۡهُۚمِّنْهُؕاس سے
ذَٰلِكَذٰلِكَیہ
مِنۡمِنْسے
ءَايَٰتِاٰيٰتِنشانیوں میں (سے) ہے
ٱللَّهِۗاللّٰهِؕاللہ کی
مَنمَنْجسے
يَهۡدِيَّهْدِہدایت دے
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ
فَهُوَتو وہی
ٱلۡمُهۡتَدِۖالْمُهْتَدِۚہدایت پانے والا ہے
وَمَنوَمَنْاور جس کو
يُضۡلِلۡيُّضْلِلْوہ بھٹکادے
فَلَنفَلَنْتو ہرگز نہیں
تَجِدَتو پائے گا
لَهُۥلَهٗاس کے لئے
وَلِيّٗاوَلِيًّاکوئی دوست
مُّرۡشِدٗامُّرْشِدًاراہ نمائی کرنے والا

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے

Ruku 3 of 12 · 5 Ayahs

وَتَحۡسَبُهُمۡوَتَحْسَبُهُمْاور تم سمجھتے ان کو
أَيۡقَاظٗااَيْقَاظًاکہ جاگ رہے ہیں/ جاگتے
وَهُمۡوَّهُمْحالانکہ وہ
رُقُودٞۚرُقُوْدٌࣗۖسوئے ہوئے تھے
وَنُقَلِّبُهُمۡوَّنُقَلِّبُهُمْاور ہم الٹا پلٹا رہے تھے ان کو
ذَاتَ—
ٱلۡيَمِينِالْيَمِيْنِدائیں جانب
وَذَاتَ—
ٱلشِّمَالِۖالشِّمَالِࣗۖاور بائیں جانب
وَكَلۡبُهُموَكَلْبُهُمْاور ان کا کتا
بَٰسِطٞبَاسِطٌپھیلائے ہوئے تھا
ذِرَاعَيۡهِذِرَاعَيْهِدونوں ہاتھ اپنے
بِٱلۡوَصِيدِۚبِالْوَصِيْدِؕدہلیز پر
لَوِاگر
ٱطَّلَعۡتَاطَّلَعْتَتم جھانکتے
عَلَيۡهِمۡعَلَيْهِمْان پر
لَوَلَّيۡتَلَوَلَّيْتَالبتہ پیٹھ پھیر لیتے
مِنۡهُمۡمِنْهُمْان سے
فِرَارٗافِرَارًابھاگتے ہوئے
وَلَمُلِئۡتَوَّلَمُلِي͏ٔ͏ْتَاور البتہ تم بھر دیئے جاتے
مِنۡهُمۡمِنْهُمْان سے
رُعۡبٗارُعْبًارعب/خوف کی وجہ سے

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے۔ اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے

17 اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے 18 اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے۔ اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے

اصحاب کہف کی بیداری 19–20

وَكَذَٰلِكَوَكَذٰلِكَاور
بَعَثۡنَٰهُمۡبَعَثْنٰهُمْاٹھایا ہم نے ان کو
لِيَتَسَآءَلُواْلِيَتَسَا࢜ءَلُوْاتاکہ وہ ایک دوسرے سےسوال کریں
بَيۡنَهُمۡۚبَيْنَهُمْؕآپس میں
قَالَکہا
قَآئِلٞقَا࢜ىِٕلٌوالے نے
مِّنۡهُمۡمِّنْهُمْان میں سے
كَمۡكَمْکتنا
لَبِثۡتُمۡۖلَبِثْتُمْؕٹھہرے تم
قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
لَبِثۡنَالَبِثْنَاٹھہرے ہم
يَوۡمًايَوْمًاایک دن
أَوۡاَوْیا
بَعۡضَبَعْضَکچھ حصہ
يَوۡمٖۚيَوْمٍؕدن کا
قَالُواْقَالُوْاوہ کہنے لگے
رَبُّكُمۡرَبُّكُمْرب تمہارا
أَعۡلَمُاَعْلَمُزیادہ جانتا ہے
بِمَاجو
لَبِثۡتُمۡلَبِثْتُمْؕٹھہرے تم ساتھ اس کے
فَٱبۡعَثُوٓاْفَابْعَثُوْٓاپس بھیجو
أَحَدَكُماَحَدَكُمْاپنے میں سے کسی ایک کو
بِوَرِقِكُمۡبِوَرِقِكُمْساتھ اپنے سکے کے/ چاندی کے
هَٰذِهِۦٓهٰذِهٖٓاس
إِلَىاِلَيطرف
ٱلۡمَدِينَةِالْمَدِيْنَةِشہر کی
فَلۡيَنظُرۡفَلْيَنْظُرْپھر چاہیئے کہ دیکھے
أَيُّهَآاَيُّهَا͏ٓکون سا ان میں سے
أَزۡكَىٰاَزْكٰيزیادہ پاکیزہ ہے
طَعَامٗاطَعَامًاکھانے کے اعتبار سے
فَلۡيَأۡتِكُمفَلْيَاْتِكُمْپس چاہیے کہ لائے تمہارے پاس
بِرِزۡقٖبِرِزْقٍکھانا
مِّنۡهُمِّنْهُاس سے
وَلۡيَتَلَطَّفۡوَلْيَتَؔلَطَّفْاور چاہیے کہ حسن تدبیر سے کام لے/ نرمی کرے
وَلَااور نہ
يُشۡعِرَنَّيُشْعِرَنَّجتائے/ خبر دے
بِكُمۡبِكُمْتمہارے بارے میں
أَحَدًااَحَدًاکسی ایک کو

اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے

إِنَّهُمۡاِنَّهُمْبیشک وہ
إِناِنْاگر
يَظۡهَرُواْيَّظْهَرُوْاوہ غالب آجائیں
عَلَيۡكُمۡعَلَيْكُمْتم پر
يَرۡجُمُوكُمۡيَرْجُمُوْكُمْسنگسار کردیں گے تم کو
أَوۡاَوْیا
يُعِيدُوكُمۡيُعِيْدُوْكُمْلوٹائے جائیں گے تم کو
فِيفِيْمیں
مِلَّتِهِمۡمِلَّتِهِمْاپنی ملت
وَلَنوَلَنْاور ہرگز نہیں
تُفۡلِحُوٓاْتُفْلِحُوْٓاتم فلاح پاؤ گے
إِذًااِذًاتب
أَبَدٗااَبَدًاکبھی بھی

اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے

19 اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے 20 اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے

اصحاب کہف کی تعداد پر اختلاف 21–22

وَكَذَٰلِكَوَكَذٰلِكَاور اسی طرح
أَعۡثَرۡنَااَعْثَرْنَاہم نے بتادیا/ ہم نے مطلع کردیا
عَلَيۡهِمۡعَلَيْهِمْاوپر ان کے
لِيَعۡلَمُوٓاْلِيَعْلَمُوْٓاتاکہ وہ جان لیں
أَنَّاَنَّکہ بیشک
وَعۡدَوَعْدَوعدہ
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کا
حَقّٞحَقٌّسچا ہے
وَأَنَّوَّاَنَّاور بیشک
ٱلسَّاعَةَالسَّاعَةَقیامت کی گھڑی
لَانہیں
رَيۡبَرَيْبَکوئی شک
فِيهَآفِيْهَاۚࣗاس میں
إِذۡاِذْجب
يَتَنَٰزَعُونَيَتَنَازَعُوْنَوہ جھگڑ رہے تھے
بَيۡنَهُمۡبَيْنَهُمْآپس میں
أَمۡرَهُمۡۖاَمْرَهُمْاپنے معاملے میں
فَقَالُواْفَقَالُواتو انہوں نے کہا
ٱبۡنُواْابْنُوْابناؤ
عَلَيۡهِمعَلَيْهِمْان پر
بُنۡيَٰنٗاۖبُنْيَانًاؕایک عمارت
رَّبُّهُمۡرَبُّهُمْان کا رب
أَعۡلَمُاَعْلَمُزیادہ جانتا ہے
بِهِمۡۚبِهِمْؕان کو
قَالَکہا
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَان لوگوں نے
غَلَبُواْغَلَبُوْاجو غالب تھے
عَلَىٰٓعَلٰٓيپر
أَمۡرِهِمۡاَمْرِهِمْان کے معاملے
لَنَتَّخِذَنَّالبتہ ہم ضرور بنائیں گے
عَلَيۡهِمعَلَيْهِمْان پر
مَّسۡجِدٗامَّسْجِدًاایک مسجد/ سجدہ گاہ

اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے

سَيَقُولُونَسَيَقُوْلُوْنَعنقریب وہ کہیں گے
ثَلَٰثَةٞثَلٰثَةٌتین تھے
رَّابِعُهُمۡرَّابِعُهُمْچوتھا ان کا
كَلۡبُهُمۡكَلْبُهُمْۚان کا کتا تھا
وَيَقُولُونَوَيَقُوْلُوْنَاور وہ کہیں گے
خَمۡسَةٞخَمْسَةٌپانچ تھے
سَادِسُهُمۡسَادِسُهُمْچھٹا ان کا
كَلۡبُهُمۡكَلْبُهُمْان کا کتا تھا
رَجۡمَۢارَجْمًاۢپھینکتے ہیں
بِٱلۡغَيۡبِۖبِالْغَيْبِۚبن دیکھے
وَيَقُولُونَوَيَقُوْلُوْنَاور وہ کہیں گے
سَبۡعَةٞسَبْعَةٌسات تھے
وَثَامِنُهُمۡوَّثَامِنُهُمْاور آٹھواں ان کا
كَلۡبُهُمۡۚكَلْبُهُمْؕان کا کتا تھا
قُلقُلْکہہ دیجئے
رَّبِّيٓرَّبِّيْٓمیرا رب
أَعۡلَمُاَعْلَمُزیادہ جانتا ہے
بِعِدَّتِهِمبِعِدَّتِهِمْان کی گنتی کو
مَّانہیں
يَعۡلَمُهُمۡيَعْلَمُهُمْجانتے ان کو
إِلَّااِلَّامگر
قَلِيلٞۗقَلِيْلٌ࣢ࣞبہت کم
فَلَاتو نہ
تُمَارِتم جھگڑا کرو
فِيهِمۡفِيْهِمْان کے بارے میں
إِلَّااِلَّامگر
مِرَآءٗمِرَا࢜ءًجھگڑنا
ظَٰهِرٗاظَاهِرًاࣕظاہری
وَلَاوَّلَااور نہ
تَسۡتَفۡتِتَسْتَفْتِتم پوچھنا
فِيهِمفِيْهِمْان کے بارے میں
مِّنۡهُمۡمِّنْهُمْان میں سے،
أَحَدٗااَحَدًاکسی ایک سے

(بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا

21 اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے 22 (بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا

Ruku 4 of 12 · 9 Ayahs

مستقبل کے کاموں میں ان شاء اللہ 23–24

وَلَااور ہرگز نہ
تَقُولَنَّتَقُوْلَنَّتم کہنا
لِشَاْيۡءٍلِشَايْءٍکسی چیز کے لئے
إِنِّياِنِّيْبیشک میں
فَاعِلٞفَاعِلٌمیں کرنے والا ہوں
ذَٰلِكَذٰلِكَاس کو
غَدًاکل

اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا

إِلَّآاِلَّا͏ٓمگر
أَناَنْیہ کہ
يَشَآءَيَّشَا࢜ءَچاہے
ٱللَّهُۚاللّٰهُؗاللہ
وَٱذۡكُروَاذْكُرْاور یاد کرو
رَّبَّكَاپنے رب کو
إِذَااِذَاجب
نَسِيتَنَسِيْتَتم بھول جاؤ
وَقُلۡوَقُلْاور کہہ دیجئے
عَسَىٰٓعَسٰٓيامید ہے
أَناَنْکہ
يَهۡدِيَنِيَّهْدِيَنِرہنمائی کرے گا میری
رَبِّيرَبِّيْمیرا رب
لِأَقۡرَبَلِاَقْرَبَواسطے زیادہ قریب کے
مِنۡمِنْسے
هَٰذَاهٰذَااس
رَشَدٗارَشَدًابھلائی میں/ رہنمائی میں

مگر (انشاء الله کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو۔ اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے

23 اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا 24 مگر (انشاء الله کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو۔ اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے

غار میں قیام کی مدت 25–26

وَلَبِثُواْوَلَبِثُوْااور وہ ٹھہرے
فِيفِيْمیں
كَهۡفِهِمۡكَهْفِهِمْاپنے غار
ثَلَٰثَثَلٰثَتین
مِاْئَةٖمِاي͏ٔ͏َةٍسو
سِنِينَسِنِيْنَسال
وَٱزۡدَادُواْوَازْدَادُوْااور وہ بڑھ گئے
تِسۡعٗاتِسْعًانو سال

اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے

قُلِکہہ دیجئے کہ
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ
أَعۡلَمُاَعْلَمُزیادہ جانتا ہے
بِمَاساتھ اس کے
لَبِثُواْۖلَبِثُوْاۚجو وہ ٹھہرے
لَهُۥلَهٗاسی کے لئے
غَيۡبُغَيْبُغیب ہیں
ٱلسَّمَٰوَٰتِالسَّمٰوٰتِآسمانوں کے
وَٱلۡأَرۡضِۖوَالْاَرْضِؕاور زمین کے
أَبۡصِرۡاَبْصِرْکیا خوب دیکھنے والا ہے
بِهِۦبِهٖ—
وَأَسۡمِعۡۚوَاَسْمِعْؕاور کیا خوب سننے والا ہے
مَانہیں ہے
لَهُملَهُمْان کے لئے
مِّنمِّنْاس کے
دُونِهِۦدُوْنِهٖسوا
مِنمِنْکوئی
وَلِيّٖوَّلِيٍّؗدوست
وَلَاوَّلَااور نہیں
يُشۡرِكُيُشْرِكُوہ شریک کرتا
فِيفِيْمیں
حُكۡمِهِۦٓحُكْمِهٖٓاپنی حکومت
أَحَدٗااَحَدًاکسی ایک کو

کہہ دو کہ جتنی مدّت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے۔ اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں (معلوم) ہیں۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی شریک کو کرتا ہے

25 اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے 26 کہہ دو کہ جتنی مدّت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے۔ اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں (معلوم) ہیں۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی شریک کو کرتا ہے

مخلص اہل ایمان کی صحبت 27–28

وَٱتۡلُوَاتْلُاور پڑھئے
مَآمَا͏ٓجو
أُوحِيَاُوْحِيَوحی کیا گیا
إِلَيۡكَاِلَيْكَتیری طرف
مِنمِنْسے
كِتَابِکتاب میں (سے)
رَبِّكَۖرَبِّكَۚؕتیرے رب کی
لَانہیں
مُبَدِّلَکوئی بدلنے والا
لِكَلِمَٰتِهِۦلِكَلِمٰتِهٖۚࣞاس کے کلمات کو
وَلَنوَلَنْاور ہرگز نہیں
تَجِدَتو پائے گا
مِنمِنْسے
دُونِهِۦدُوْنِهٖاس کے سوا
مُلۡتَحَدٗامُلْتَحَدًاپناہ کی جگہ

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

وَٱصۡبِرۡوَاصْبِرْاور روک رکھئے
نَفۡسَكَنَفْسَكَاپنے نفس کو
مَعَساتھ
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَان لوگوں کے
يَدۡعُونَيَدْعُوْنَجو پکارتے ہیں
رَبَّهُمرَبَّهُمْاپنے رب کو
بِٱلۡغَدَوٰةِبِالْغَدٰوةِصبح کے وقت
وَٱلۡعَشِيِّوَالْعَشِيِّاور شام کے وقت
يُرِيدُونَيُرِيْدُوْنَوہ چاہتے ہیں
وَجۡهَهُۥۖوَجْهَهٗاس کا چہرہ/ اس کی ذات
وَلَااور نہ
تَعۡدُتَعْدُپھیریئے
عَيۡنَاكَعَيْنٰكَاپنی دونوں آنکھوں کو
عَنۡهُمۡعَنْهُمْۚان سے
تُرِيدُتُرِيْدُتم چاہتے ہو
زِينَةَزِيْنَةَزینت
ٱلۡحَيَوٰةِالْحَيٰوةِزندگی کی
ٱلدُّنۡيَاۖالدُّنْيَاۚدنیا کی
وَلَااور نہ
تُطِعۡتُطِعْتم اطاعت کرو
مَنۡمَنْجس کو
أَغۡفَلۡنَااَغْفَلْنَاغافل کردیا ہم نے
قَلۡبَهُۥقَلْبَهٗاس کے دل کو
عَنعَنْ—
ذِكۡرِنَاذِكْرِنَااپنے ذکر سے
وَٱتَّبَعَوَاتَّبَعَاور اس نے پیروی کی
هَوَىٰهُهَوٰىهُاپنی خواہشات کی
وَكَانَاور تھا
أَمۡرُهُۥاَمْرُهٗاس کا معاملہ
فُرُطٗافُرُطًاحد سے بڑھا ہوا

اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا

27 اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے 28 اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا

ایمان و کفر کا اختیار اور انجام 29–31

وَقُلِاور کہہ دیجئے کہ
ٱلۡحَقُّالْحَقُّحق
مِنمِنْسے
رَّبِّكُمۡۖرَّبِّكُمْࣞتمہارے رب کی طرف (سے) ہے
فَمَنفَمَنْتو جو کوئی
شَآءَشَا࢜ءَچاہے
فَلۡيُؤۡمِنفَلْيُو͏ٔ͏ْمِنْپس چاہیے کہ ایمان لے آئے
وَمَنوَّمَنْاور جو
شَآءَشَا࢜ءَچاہے
فَلۡيَكۡفُرۡۚفَلْيَكْفُرْۙپس چاہیے کہ کفر کرے
إِنَّآاِنَّا͏ٓبیشک ہم نے
أَعۡتَدۡنَااَعْتَدْنَاتیار کی ہم نے
لِلظَّٰلِمِينَلِلظّٰلِمِيْنَظالموں کے لئے
نَارًانَارًاۙایک آگ
أَحَاطَاَحَاطَگھیر لیں گی
بِهِمۡبِهِمْان کو
سُرَادِقُهَاۚسُرَادِقُهَاؕاس کی طنابیں/لپٹیں
وَإِنوَاِنْاور اگر
يَسۡتَغِيثُواْيَّسْتَغِيْثُوْاوہ فریاد کریں گے
يُغَاثُواْيُغَاثُوْافریاد رسی کئے جائیں گے
بِمَآءٖبِمَا࢜ءٍساتھ پانی کے
كَٱلۡمُهۡلِكَالْمُهْلِتیل کی تلچھٹ کی طرح
يَشۡوِييَشْوِيجو بھون ڈالے گا
ٱلۡوُجُوهَۚالْوُجُوْهَؕچہروں کو
بِئۡسَبِي͏ٔ͏ْسَکتنی بری ہے
ٱلشَّرَابُالشَّرَابُؕپینے کی چیز
وَسَآءَتۡوَسَا࢜ءَتْاور کتنا برا ہے
مُرۡتَفَقًامُرْتَفَقًامقام/ دوستی

اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری

إِنَّاِنَّبیشک
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ لوگ
ءَامَنُواْاٰمَنُوْاجو ایمان لائے
وَعَمِلُواْوَعَمِلُوااور انہوں نےعمل کئے
ٱلصَّٰلِحَٰتِالصّٰلِحٰتِاچھے
إِنَّااِنَّابیشک ہم
لَانہیں
نُضِيعُنُضِيْعُہم ضائع کرتے
أَجۡرَاَجْرَاجر
مَنۡمَنْجو کوئی
أَحۡسَنَاَحْسَنَاچھا کرے
عَمَلًاعمل کو

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

أُوْلَٰٓئِكَاُولٰ࢜ىِٕكَیہی لوگ
لَهُمۡلَهُمْان کے لئے
جَنَّٰتُجَنّٰتُباغات ہیں
عَدۡنٖعَدْنٍہمیشہ کے
تَجۡرِيتَجْرِيْبہتی ہیں
مِنمِنْسے
تَحۡتِهِمُتَحْتِهِمُان کے نیچے
ٱلۡأَنۡهَٰرُالْاَنْهٰرُنہریں
يُحَلَّوۡنَيُحَلَّوْنَوہ پہنائے جائیں گے
فِيهَافِيْهَاان میں
مِنۡمِنْمیں سے
أَسَاوِرَاَسَاوِرَکنگنوں
مِنمِنْکے
ذَهَبٖذَهَبٍسونے
وَيَلۡبَسُونَوَّيَلْبَسُوْنَاور پہنیں گے
ثِيَابًالباس
خُضۡرٗاخُضْرًاسبز
مِّنمِّنْسے
سُندُسٖسُنْدُسٍباریک ریشم
وَإِسۡتَبۡرَقٖوَّاِسْتَبْرَقٍاور دبیز ریشم سے
مُّتَّكِـِٔينَمُّتَّكِـِٕيْنَتکیہ لگائے ہوئے ہوں گے
فِيهَافِيْهَااس میں
عَلَىعَلَيپر
ٱلۡأَرَآئِكِۚالْاَرَا࢜ىِٕكِؕاونچی مسندوں
نِعۡمَنِعْمَکتنا اچھا
ٱلثَّوَابُالثَّوَابُؕبدلہ ہے
وَحَسُنَتۡوَحَسُنَتْاور کتنا اچھا ہے
مُرۡتَفَقٗامُرْتَفَقًامقام/دوستی

ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیئے لگا کر بیٹھا کریں گے۔ (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے

29 اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری 30 (اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے 31 ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیئے لگا کر بیٹھا کریں گے۔ (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے

½ Hizb 30
Ruku 5 of 12 · 13 Ayahs

دو باغوں والے کی مثال 32–36

وَٱضۡرِبۡوَاضْرِبْاور بیان کیجئے
لَهُملَهُمْان کے لئے
مَّثَلٗامَّثَلًاایک مثال
رَّجُلَيۡنِرَّجُلَيْنِدو لوگوں کی
جَعَلۡنَاجَعَلْنَابنائے ہم نے
لِأَحَدِهِمَالِاَحَدِهِمَاان دونوں میں سے ایک کے لئے
جَنَّتَيۡنِجَنَّتَيْنِدو باغ
مِنۡمِنْکے
أَعۡنَٰبٖاَعْنَابٍانگوروں
وَحَفَفۡنَٰهُمَاوَّحَفَفْنٰهُمَااور گھیر لیا ہم نے ان دونوں کو
بِنَخۡلٖبِنَخْلٍکھجوروں کے ساتھ
وَجَعَلۡنَاوَّجَعَلْنَااور بنائے ہم نے
بَيۡنَهُمَابَيْنَهُمَاان دونوں کے درمیان
زَرۡعٗازَرْعًاکھیت

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

كِلۡتَاكِلْتَادونوں
ٱلۡجَنَّتَيۡنِالْجَنَّتَيْنِباغوں نے
ءَاتَتۡاٰتَتْدیئے
أُكُلَهَااُكُلَهَااپنے پھل
وَلَمۡوَلَمْاور نہ
تَظۡلِمتَظْلِمْکمی کی
مِّنۡهُمِّنْهُاس میں سے
شَيۡـٔٗاۚشَيْـًٔاۙکچھ بھی
وَفَجَّرۡنَاوَّفَجَّرْنَااور پھاڑ دی ہم نے
خِلَٰلَهُمَاخِلٰلَهُمَاان دونوں کے بیچ
نَهَرٗانَهَرًاایک نہر

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

وَكَانَوَّكَانَاور ہوا
لَهُۥلَهٗاس کے لئے
ثَمَرٞثَمَرٌۚپھل/ نفع
فَقَالَتو کہا
لِصَٰحِبِهِۦلِصَاحِبِهٖاپنے ساتھی کو
وَهُوَاور وہ اس سے
يُحَاوِرُهُۥٓيُحَاوِرُهٗٓبات چیت کررہا تھا
أَنَا۠اَنَامیں
أَكۡثَرُاَكْثَرُزیادہ ہوں
مِنكَمِنْكَتجھ سے
مَالٗامَالًامال میں
وَأَعَزُّوَّاَعَزُّاور زیادہ عزت والا
نَفَرٗانَفَرًااولاد میں

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

وَدَخَلَاور وہ داخل ہوا
جَنَّتَهُۥجَنَّتَهٗاپنے باغ میں
وَهُوَاس حال میں کہ وہ
ظَالِمٞظَالِمٌظلم کرنے والا تھا اپنی جان پر
لِّنَفۡسِهِۦلِّنَفْسِهٖۚاپنی ذات پر
قَالَکہنے لگا
مَآمَا͏ٓنہیں
أَظُنُّاَظُنُّمیں سمجھتا
أَناَنْکہ
تَبِيدَتَبِيْدَہلاک ہوگا/ برباد ہوگا
هَٰذِهِۦٓهٰذِهٖٓیہ
أَبَدٗااَبَدًاکبھی بھی

اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو

وَمَآوَّمَا͏ٓاور نہیں
أَظُنُّاَظُنُّمیں سمجھتا کہ
ٱلسَّاعَةَالسَّاعَةَقیامت
قَآئِمَةٗقَا࢜ىِٕمَةًۙآنے والی ہے
وَلَئِنوَّلَىِٕنْاور البتہ اگر
رُّدِدتُّرُّدِدْتُّمیں لوٹایا گیا
إِلَىٰاِلٰيکی طرف
رَبِّيرَبِّيْاپنے رب
لَأَجِدَنَّلَاَجِدَنَّالبتہ میں ضرور پاؤں گا
خَيۡرٗاخَيْرًابہتر
مِّنۡهَامِّنْهَااس سے
مُنقَلَبٗامُنْقَلَبًالوٹنا/ انجام

اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

32 اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی 33 دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی 34 اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں 35 اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو 36 اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

مومن دوست کی نصیحت 37–41

قَالَکہا
لَهُۥلَهٗاس کو
صَاحِبُهُۥصَاحِبُهٗاس کے ساتھ نے
وَهُوَاور وہ
يُحَاوِرُهُۥٓيُحَاوِرُهٗٓاس سے بات کر رہا تھا
أَكَفَرۡتَاَكَفَرْتَکیا تو انکار کرتا ہے
بِٱلَّذِيبِالَّذِيْاس ذات کا
خَلَقَكَجس نے پیدا کیا تجھ کو
مِنمِنْسے
تُرَابٖتُرَابٍمٹی
ثُمَّپھر
مِنمِنْسے
نُّطۡفَةٖنُّطْفَةٍنطفے
ثُمَّپھر
سَوَّىٰكَسَوّٰىكَبنایا تجھ کو
رَجُلٗارَجُلًاایک مرد/ شخص

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

لَّٰكِنَّا۠لٰكِنَّا۟لیکن
هُوَوہ
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ
رَبِّيرَبِّيْمیرا رب ہے
وَلَآوَلَا͏ٓاور نہیں
أُشۡرِكُاُشْرِكُمیں شریک ٹھہراتا
بِرَبِّيٓبِرَبِّيْٓاپنے رب کے ساتھ
أَحَدٗااَحَدًاکسی ایک کو

مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

وَلَوۡلَآوَلَوْلَا͏ٓاور کیوں نہ
إِذۡاِذْجب
دَخَلۡتَدَخَلْتَتم داخل ہوئے
جَنَّتَكَاپنے باغ میں
قُلۡتَقُلْتَکہا تو نے
مَاجو
شَآءَشَا࢜ءَچاہے
ٱللَّهُاللّٰهُۙاللہ
لَانہیں
قُوَّةَقوت
إِلَّااِلَّامگر
بِٱللَّهِۚبِاللّٰهِۚساتھ اللہ کے
إِناِنْاگر
تَرَنِتم دیکھتے ہو مجھ کو
أَنَا۠اَنَامیں
أَقَلَّاَقَلَّکم تر ہوں
مِنكَمِنْكَتجھ سے
مَالٗامَالًامال میں
وَوَلَدٗاوَّوَلَدًااور اولاد میں

اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاالله لاقوة الابالله کیوں نہ کہا۔ اگر تم مجھے مال واولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو

فَعَسَىٰفَعَسٰيتو امید ہے کہ
رَبِّيٓرَبِّيْٓمیرا رب
أَناَنْکہ
يُؤۡتِيَنِيُّو͏ٔ͏ْتِيَنِدے دے مجھ کو
خَيۡرٗاخَيْرًابہتر
مِّنمِّنْسے
جَنَّتِكَتیرے باغ
وَيُرۡسِلَوَيُرْسِلَاور بھیجے
عَلَيۡهَاعَلَيْهَااس پر
حُسۡبَانٗاحُسْبَانًاایک عذاب/ آفت
مِّنَسے
ٱلسَّمَآءِالسَّمَا࢜ءِآسمان (سے)
فَتُصۡبِحَفَتُصْبِحَتو ہوجائے یہ
صَعِيدٗاصَعِيْدًامیدان
زَلَقًاصاف

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے

أَوۡاَوْیا
يُصۡبِحَيُصْبِحَہوجائے
مَآؤُهَامَا࢜و͏ٔ͏ُهَاپانی اس کا
غَوۡرٗاغَوْرًاگہرا
فَلَنفَلَنْتو ہرگز نہیں
تَسۡتَطِيعَتَسْتَطِيْعَتم استطاعت رکھتے
لَهُۥلَهٗاس کے لئے
طَلَبٗاطَلَبًاطلب کرنے کی

یا اس (کی نہر) کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لاسکو

37 تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا 38 مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا 39 اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاالله لاقوة الابالله کیوں نہ کہا۔ اگر تم مجھے مال واولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو 40 تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے 41 یا اس (کی نہر) کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لاسکو

باغوں کی تباہی 42–44

وَأُحِيطَوَاُحِيْطَاور وہ گھیر لیا گیا
بِثَمَرِهِۦبِثَمَرِهٖساتھ اپنے پھل کے
فَأَصۡبَحَفَاَصْبَحَتو ہوگیا/ شروع ہوا
يُقَلِّبُالٹ پلٹ کرنے
كَفَّيۡهِكَفَّيْهِاپنی دونوں ہتھیلیاں
عَلَىٰعَلٰياوپر
مَآمَا͏ٓجو
أَنفَقَاَنْفَقَخرچ کیا تھا اس نے
فِيهَافِيْهَااس میں
وَهِيَاور وہ
خَاوِيَةٌگرا پڑا تھا
عَلَىٰعَلٰيپر
عُرُوشِهَاعُرُوْشِهَااپنی چھتوں
وَيَقُولُوَيَقُوْلُاور وہ کہہ رہا تھا
يَٰلَيۡتَنِييٰلَيْتَنِيْاے کاش کہ میں
لَمۡلَمْنہ
أُشۡرِكۡاُشْرِكْمیں شریک ٹھہراتا
بِرَبِّيٓبِرَبِّيْٓاپنے رب کے ساتھ
أَحَدٗااَحَدًاکسی ایک کو

اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

وَلَمۡوَلَمْاور نہ
تَكُنتَكُنْتھی
لَّهُۥلَّهٗاس کے لئے
فِئَةٞفِي͏ٔ͏َةٌکوئی جماعت
يَنصُرُونَهُۥيَّنْصُرُوْنَهٗجو مدد کرتی اس کی
مِنمِنْ—
دُونِدُوْنِسوا
ٱللَّهِاللّٰهِاللہ کے
وَمَااور نہ تھا
كَانَوہ
مُنتَصِرًامُنْتَصِرًااپنی مدد کرنے والا/ بدلہ لینے والا

(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا

هُنَالِكَاسی جگہ
ٱلۡوَلَٰيَةُالْوَلَايَةُمدد
لِلَّهِلِلّٰهِاللہ ہی کے لئے
ٱلۡحَقِّۚالْحَقِّؕبرحق
هُوَوہ
خَيۡرٞخَيْرٌبہتر ہے
ثَوَابٗاثَوَابًابدلے کے اعتبار سے
وَخَيۡرٌوَّخَيْرٌاور بہتر ہے
عُقۡبٗاعُقْبًاانجام کے اعتبار سے

یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے۔ اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے

42 اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا 43 (اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا 44 یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے۔ اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے

Ruku 6 of 12 · 5 Ayahs

دنیوی زندگی کی مثال 45–46

وَٱضۡرِبۡوَاضْرِبْاور بیان کرو
لَهُملَهُمْان کے لئے
مَّثَلَمثال
ٱلۡحَيَوٰةِالْحَيٰوةِزندگی کی
ٱلدُّنۡيَاالدُّنْيَادنیا کی
كَمَآءٍكَمَا࢜ءٍجیسے پانی
أَنزَلۡنَٰهُاَنْزَلْنٰهُاتارا ہم نے اس کو
مِنَسے
ٱلسَّمَآءِالسَّمَا࢜ءِآسمان
فَٱخۡتَلَطَفَاخْتَلَطَتو رَل مل گئی
بِهِۦبِهٖساتھ اس پانی کے
نَبَاتُنباتات
ٱلۡأَرۡضِالْاَرْضِزمین کی
فَأَصۡبَحَفَاَصْبَحَتو وہ ہوگئی
هَشِيمٗاهَشِيْمًاریزہ ریزہ
تَذۡرُوهُتَذْرُوْهُاڑاتی ہیں اس کو
ٱلرِّيَٰحُۗالرِّيٰحُؕہوائیں
وَكَانَاور ہے
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ تعالیٰ
عَلَىٰعَلٰيپر
كُلِّہر
شَيۡءٖشَيْءٍچیز
مُّقۡتَدِرًامُّقْتَدِرًاقدرت رکھنے والا

اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

ٱلۡمَالُاَلْمَالُمال
وَٱلۡبَنُونَوَالْبَنُوْنَاور بیٹے
زِينَةُزِيْنَةُرونق ہیں
ٱلۡحَيَوٰةِالْحَيٰوةِزندگی کی
ٱلدُّنۡيَاۖالدُّنْيَاۚدنیا کی
وَٱلۡبَٰقِيَٰتُوَالْبٰقِيٰتُاور باقی رہنے والیاں
ٱلصَّٰلِحَٰتُالصّٰلِحٰتُنیکیاں ہیں
خَيۡرٌخَيْرٌجو بہتر ہیں
عِندَعِنْدَنزدیک
رَبِّكَتیرے رب کے
ثَوَابٗاثَوَابًاثواب کے اعتبار سے
وَخَيۡرٌوَّخَيْرٌاور بہتر ہیں
أَمَلٗااَمَلًاامید کے اعتبار سے

مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں

45 اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے 46 مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں

قیامت کے مناظر 47–49

وَيَوۡمَوَيَوْمَاور جس دن
نُسَيِّرُہم چلائیں گے
ٱلۡجِبَالَالْجِبَالَپہاڑوں کو
وَتَرَىوَتَرَياور تم دیکھو گے
ٱلۡأَرۡضَالْاَرْضَزمین کو
بَارِزَةٗبَارِزَةًۙکھلی ہوئی/ ظاہر
وَحَشَرۡنَٰهُمۡوَّحَشَرْنٰهُمْاور اکٹھا کرلیں گے ان کو
فَلَمۡفَلَمْپھر نہیں
نُغَادِرۡنُغَادِرْہم چھوڑیں گے
مِنۡهُمۡمِنْهُمْان میں سے
أَحَدٗااَحَدًاکسی ایک کو

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے

وَعُرِضُواْوَعُرِضُوْااور وہ پیش کئے جائیں گے
عَلَىٰعَلٰيپر
رَبِّكَتیرے رب
صَفّٗاصَفًّاؕصف در صف
لَّقَدۡلَقَدْالبتہ تحقیق
جِئۡتُمُونَاجِي͏ٔ͏ْتُمُوْنَاآگئے تم ہمارے پاس
كَمَاجیسا کہ
خَلَقۡنَٰكُمۡخَلَقْنٰكُمْپیدا کیا تھا ہم نے تم کو
أَوَّلَاَوَّلَپہلی بار/ پہلی مرتبہ
مَرَّةِۭۚمَرَّةٍۭؗپہلی بار/ پہلی مرتبہ
بَلۡبَلْبلکہ
زَعَمۡتُمۡزَعَمْتُمْسمجھا تم نے/ گمان کیا تم نے
أَلَّناَلَّنْکہ ہرگز نہیں
نَّجۡعَلَنَّجْعَلَہم نے بنایا
لَكُملَكُمْتمہارے لئے
مَّوۡعِدٗامَّوْعِدًاکوئی وعدے کا وقت

اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا

وَوُضِعَاور رکھ دی جائے گی
ٱلۡكِتَٰبُالْكِتٰبُکتاب
فَتَرَىفَتَرَيتو تم دیکھو گے
ٱلۡمُجۡرِمِينَالْمُجْرِمِيْنَمجرموں کو
مُشۡفِقِينَمُشْفِقِيْنَڈر رہے ہوں گے
مِمَّااس کے بارے میں جو
فِيهِفِيْهِاس میں ہے
وَيَقُولُونَوَيَقُوْلُوْنَاور وہ کہیں گے
يَٰوَيۡلَتَنَايٰوَيْلَتَنَاہائے افسوس ہم پر
مَالِکیا ہوگیا
هَٰذَاهٰذَااس
ٱلۡكِتَٰبِالْكِتٰبِکتاب کو
لَانہیں
يُغَادِرُچھوڑا اس نے
صَغِيرَةٗصَغِيْرَةًکسی چھوٹی چیز کو
وَلَاوَّلَااور نہ
كَبِيرَةًكَبِيْرَةًکسی بڑی چیز کو
إِلَّآاِلَّا͏ٓمگر
أَحۡصَىٰهَاۚاَحْصٰىهَاۚاس نے گھیر رکھا ہے اس کو/ شمار کر رکھا ہے اس کو
وَوَجَدُواْوَوَجَدُوْااور وہ پالیں گے
مَاجو
عَمِلُواْعَمِلُوْاانہوں نے عمل کئے
حَاضِرٗاۗحَاضِرًاؕحاضر
وَلَااور نہ
يَظۡلِمُيَظْلِمُظلم کرے گا
رَبُّكَتیرا رب
أَحَدٗااَحَدًاکسی ایک پر

اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا

47 اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے 48 اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا 49 اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا

Ruku 7 of 12 · 4 Ayahs

شیطان کو دوست بنانے کی حماقت 50–51

وَإِذۡوَاِذْاور جب
قُلۡنَاقُلْنَاکہا ہم نے
لِلۡمَلَٰٓئِكَةِلِلْمَلٰ࢜ىِٕكَةِفرشتوں سے
ٱسۡجُدُواْاسْجُدُوْاسجدہ کرو
لِأٓدَمَلِاٰدَمَآدم (علیہ السلام) کے لئے
فَسَجَدُوٓاْفَسَجَدُوْٓاتو ان سب نے سجدہ کیا
إِلَّآاِلَّا͏ٓسوائے
إِبۡلِيسَاِبْلِيْسَؕابلیس کے
كَانَتھا وہ
مِنَمیں سے
ٱلۡجِنِّالْجِنِّجنوں
فَفَسَقَتو اس نے نافرمانی کی
عَنۡعَنْ—
أَمۡرِاَمْرِحکم سے
رَبِّهِۦٓۗرَبِّهٖؕاپنے رب کے
أَفَتَتَّخِذُونَهُۥاَفَتَتَّخِذُوْنَهٗکیا بھلا تم بناتے ہو اس کو
وَذُرِّيَّتَهُۥٓوَذُرِّيَّتَهٗٓاور اس کی اولاد کو
أَوۡلِيَآءَاَوْلِيَا࢜ءَدوست/ مددگار
مِنمِنْ—
دُونِيدُوْنِيْمیرے سوا/ مجھے چھوڑ کر
وَهُمۡوَهُمْحالانکہ وہ
لَكُمۡلَكُمْتمہارے لئے
عَدُوُّۢۚعَدُوٌّؕدشمن ہے
بِئۡسَبِي͏ٔ͏ْسَکتنا برا ہے
لِلظَّٰلِمِينَلِلظّٰلِمِيْنَظالموں کے لئے
بَدَلٗابَدَلًابدل

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے

¾ Hizb 30

مَّآمَا͏ٓ—
أَشۡهَدتُّهُمۡاَشْهَدْتُّهُمْمیں نے حاضر کیا تھا ان کو
خَلۡقَخَلْقَپیدائش میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِالسَّمٰوٰتِآسمانوں کی
وَٱلۡأَرۡضِوَالْاَرْضِاور زمین کی
وَلَااور نہ
خَلۡقَخَلْقَپیدائش میں
أَنفُسِهِمۡاَنْفُسِهِمْࣕان کے نفسوں کی
وَمَااور نہیں
كُنتُكُنْتُہوں میں
مُتَّخِذَبنانے والا
ٱلۡمُضِلِّينَالْمُضِلِّيْنَگمراہ کرنے والوں کو
عَضُدٗاعَضُدًامددگار

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

50 اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے 51 میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

قیامت کے دن جھوٹے شریک 52–53

وَيَوۡمَوَيَوْمَاور جس دن
يَقُولُيَقُوْلُوہ کہے گا
نَادُواْنَادُوْاپکارو
شُرَكَآءِيَشُرَكَا࢜ءِيَمیرے شریکوں کو
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ لوگ جنہیں
زَعَمۡتُمۡزَعَمْتُمْگمان کرتے تھے تم
فَدَعَوۡهُمۡفَدَعَوْهُمْوہ پکاریں گے ان کو
فَلَمۡفَلَمْپس نہ
يَسۡتَجِيبُواْيَسْتَجِيْبُوْاوہ جواب دیں گے
لَهُمۡلَهُمْان کو
وَجَعَلۡنَاوَجَعَلْنَااور ہم بنادیں گے
بَيۡنَهُمبَيْنَهُمْان کے درمیان
مَّوۡبِقٗامَّوْبِقًاہلاکت کی جگہ

اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کے بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے

وَرَءَاوَرَاَاور دیکھیں گے
ٱلۡمُجۡرِمُونَالْمُجْرِمُوْنَمجرم
ٱلنَّارَالنَّارَآگ کو
فَظَنُّوٓاْفَظَنُّوْٓاتو وہ سمجھ لیں گے
أَنَّهُماَنَّهُمْبیشک وہ
مُّوَاقِعُوهَامُّوَاقِعُوْهَاگرنے والے ہیں اس میں
وَلَمۡوَلَمْاور وہ نہ
يَجِدُواْيَجِدُوْاپائیں گے
عَنۡهَاعَنْهَااس سے
مَصۡرِفٗامَصْرِفًالوٹنے کی جگہ/ بچنے کا راستہ

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے

52 اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کے بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے 53 اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے

Ruku 8 of 12 · 6 Ayahs

انسان کی جھگڑالو فطرت 54–56

وَلَقَدۡوَلَقَدْاور البتہ تحقیق
صَرَّفۡنَاصَرَّفْنَاپھیر پھیر کے بیان کیں ہم نے
فِيفِيْمیں
هَٰذَاهٰذَااس
ٱلۡقُرۡءَانِالْقُرْاٰنِقرآن
لِلنَّاسِلوگوں کے لئے
مِنمِنْ—
كُلِّہر طرح کی
مَثَلٖۚمَثَلٍؕمثال میں سے
وَكَانَاور ہے
ٱلۡإِنسَٰنُالْاِنْسَانُانسان
أَكۡثَرَاَكْثَرَزیادہ
شَيۡءٖشَيْءٍہر چیز سے
جَدَلٗاجَدَلًاجھگڑنے والا

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

وَمَااور نہیں
مَنَعَروکا
ٱلنَّاسَالنَّاسَلوگوں کو
أَناَنْکہ
يُؤۡمِنُوٓاْيُّو͏ٔ͏ْمِنُوْٓاوہ ایمان لائیں
إِذۡاِذْجب
جَآءَهُمُجَا࢜ءَهُمُآئی ان کے پاس
ٱلۡهُدَىٰالْهُدٰيہدایت
وَيَسۡتَغۡفِرُواْوَيَسْتَغْفِرُوْااور بخشش مانگیں
رَبَّهُمۡرَبَّهُمْاپنے رب سے
إِلَّآاِلَّا͏ٓمگر
أَناَنْیہ کہ
تَأۡتِيَهُمۡتَاْتِيَهُمْآجائے ان کے پاس
سُنَّةُطریقہ
ٱلۡأَوَّلِينَالْاَوَّلِيْنَپہلوں کا
أَوۡاَوْیا
يَأۡتِيَهُمُيَاْتِيَهُمُآئے ان کے پاس
ٱلۡعَذَابُالْعَذَابُعذاب
قُبُلٗاقُبُلًاسامنے سے

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو

وَمَااور نہیں
نُرۡسِلُنُرْسِلُہم بھیجتے
ٱلۡمُرۡسَلِينَالْمُرْسَلِيْنَرسولوں کو
إِلَّااِلَّامگر
مُبَشِّرِينَمُبَشِّرِيْنَخوش خبری دینے والے
وَمُنذِرِينَۚوَمُنْذِرِيْنَۚاور ڈرانے والے
وَيُجَٰدِلُوَيُجَادِلُاور جھگڑتے ہیں
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ لوگ
كَفَرُواْكَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
بِٱلۡبَٰطِلِبِالْبَاطِلِساتھ باطل کے
لِيُدۡحِضُواْلِيُدْحِضُوْاتاکہ زائل کردیں/ پھسلا دیں
بِهِساتھ اس کے
ٱلۡحَقَّۖالْحَقَّحق کو
وَٱتَّخَذُوٓاْوَاتَّخَذُوْٓااور انہوں نے بنالیا
ءَايَٰتِياٰيٰتِيْمیری آیات کو
وَمَآوَمَا͏ٓاور جس سے
أُنذِرُواْاُنْذِرُوْاوہ ڈرائے گئے
هُزُوٗاهُزُوًامذاق

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا

54 اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے 55 اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو 56 اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا

نصیحت سے منہ موڑنا 57–59

وَمَنۡوَمَنْاور کون
أَظۡلَمُاَظْلَمُبڑا ظالم ہے
مِمَّنمِمَّنْاس سے جو
ذُكِّرَنصیحت کیا گیا
بِـَٔايَٰتِبِاٰيٰتِآیات کے
رَبِّهِۦرَبِّهٖاپنے رب کی
فَأَعۡرَضَفَاَعْرَضَذریعے پھر اسنے اعراض برتا
عَنۡهَاعَنْهَااس سے
وَنَسِيَاور بھول گیا
مَاجو
قَدَّمَتۡقَدَّمَتْآگے بھیجا
يَدَاهُۚيَدٰهُؕاس کے دونوں ہاتھوں نے
إِنَّااِنَّابیشک ہم نے
جَعَلۡنَاجَعَلْنَا، بنائے ہم نے
عَلَىٰعَلٰيپر
قُلُوبِهِمۡقُلُوْبِهِمْان کے دلوں (پر)
أَكِنَّةًاَكِنَّةًغلاف
أَناَنْکہ
يَفۡقَهُوهُيَّفْقَهُوْهُسمجھ سکیں وہ اس کو
وَفِيٓوَفِيْٓاور ان کے
ءَاذَانِهِمۡاٰذَانِهِمْکانوں میں
وَقۡرٗاۖوَقْرًاؕبوجھ کو
وَإِنوَاِنْاور اگر
تَدۡعُهُمۡتَدْعُهُمْتم پکارو/ بلاؤ ان کو
إِلَىاِلَيطرف
ٱلۡهُدَىٰالْهُدٰيہدایت کی
فَلَنفَلَنْتو ہرگزنہ
يَهۡتَدُوٓاْيَّهْتَدُوْٓاہدایت پائیں گے
إِذًااِذًاتب
أَبَدٗااَبَدًاکبھی بھی

اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے

وَرَبُّكَاور رب تیرا
ٱلۡغَفُورُالْغَفُوْرُبخشنے والا ہے
ذُو—
ٱلرَّحۡمَةِۖالرَّحْمَةِؕصاحب رحمت ہے
لَوۡلَوْاگر
يُؤَاخِذُهُميُو͏ٔ͏َاخِذُهُمْوہ پکڑے ان کو
بِمَابوجہ اس کے جو
كَسَبُواْكَسَبُوْاانہوں نے کمائی کی
لَعَجَّلَالبتہ جلدی دے گا
لَهُمُان کو
ٱلۡعَذَابَۚالْعَذَابَؕعذاب
بَلبَلْبلکہ
لَّهُملَّهُمْان کے لئے
مَّوۡعِدٞمَّوْعِدٌوعدے کا ایک وقت ہے
لَّنلَّنْہرگز نہ
يَجِدُواْيَّجِدُوْاپائیں گے
مِنمِنْ—
دُونِهِۦدُوْنِهٖاس کے سوا
مَوۡئِلٗامَوْىِٕلًالوٹنے کی جگہ

اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے۔ مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا) ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

وَتِلۡكَوَتِلْكَاور یہ
ٱلۡقُرَىٰٓالْقُرٰٓيبستیاں
أَهۡلَكۡنَٰهُمۡاَهْلَكْنٰهُمْہلاک کیا ہم نے ان کو
لَمَّاجب
ظَلَمُواْظَلَمُوْاانہوں نے ظلم کیا
وَجَعَلۡنَاوَجَعَلْنَااور بنایا ہم نے
لِمَهۡلِكِهِملِمَهْلِكِهِمْان کی ہلاکت کے لئے
مَّوۡعِدٗامَّوْعِدًاایک مقررہ وقت

اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ اور ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا

57 اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے 58 اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے۔ مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا) ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے 59 اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ اور ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا

Ruku 9 of 12 · 11 Ayahs

موسیٰ کا مجمع البحرین کا سفر 60–64

وَإِذۡوَاِذْاور جب
قَالَکہا
مُوسَىٰمُوْسٰيموسیٰ (علیہ السلام) نے
لِفَتَىٰهُلِفَتٰىهُاپنے نوجوان کو/ غلام کو/ خادم کو
لَآلَا͏ٓنہ
أَبۡرَحُاَبْرَحُمیں پلٹوں گا/ نہ میں پھروں گا
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
أَبۡلُغَاَبْلُغَمیں پہنچ جاؤں
مَجۡمَعَمَجْمَعَجمع ہونے کی جگہ
ٱلۡبَحۡرَيۡنِالْبَحْرَيْنِدو دریاؤں کے
أَوۡاَوْیا
أَمۡضِيَاَمْضِيَمیں چلتا رہوں گا
حُقُبٗاحُقُبًابرسوں/ مدتوں

اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں

فَلَمَّاتو جب
بَلَغَاوہ دونوں پہنچے
مَجۡمَعَمَجْمَعَسنگم پر/جمع ہونے کی جگہ پر
بَيۡنِهِمَابَيْنِهِمَادرمیان ان دو دریاؤں کے
نَسِيَاتو دونوں بھول گئے
حُوتَهُمَاحُوْتَهُمَااپنی مچھلی کو
فَٱتَّخَذَفَاتَّخَذَپس اس نے بنا لیا
سَبِيلَهُۥسَبِيْلَهٗاپنا راستہ
فِيمیں
ٱلۡبَحۡرِالْبَحْرِسمندر
سَرَبٗاسَرَبًاسرنگ کی طرح

جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا

فَلَمَّاتو جب
جَاوَزَاوہ آگے بڑھے
قَالَکہا
لِفَتَىٰهُلِفَتٰىهُاپنے خادم سے
ءَاتِنَااٰتِنَالائیے ہمارے پاس
غَدَآءَنَاغَدَا࢜ءَنَاؗہمارا ناشتہ/ دوپہر کا کھانا
لَقَدۡلَقَدْالبتہ تحقیق
لَقِينَالَقِيْنَاملاقات کی ہم نے
مِنمِنْسے
سَفَرِنَااس سفر
هَٰذَاهٰذَااپنے
نَصَبٗانَصَبًاتھکاوٹ سے

جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے

قَالَاس نے کہا
أَرَءَيۡتَاَرَءَيْتَ، کیا دیکھا تم نے
إِذۡاِذْجب
أَوَيۡنَآاَوَيْنَا͏ٓہم نے پناہ لی تھی
إِلَىاِلَيطرف
ٱلصَّخۡرَةِالصَّخْرَةِچٹان کی
فَإِنِّيفَاِنِّيْتو بیشک میں
نَسِيتُنَسِيْتُمیں بھول گیا
ٱلۡحُوتَالْحُوْتَؗمچھلی کو
وَمَآوَمَا͏ٓاور نہیں
أَنسَىٰنِيهُاَنْسٰىنِيْهُبھلایا مجھے اس کو
إِلَّااِلَّامگر
ٱلشَّيۡطَٰنُالشَّيْطٰنُشیطان نے
أَنۡاَنْکہ
أَذۡكُرَهُۥۚاَذْكُرَهٗۚمیں ذکر کروں اس کا
وَٱتَّخَذَوَاتَّخَذَاور اس نے بنالیا تھا
سَبِيلَهُۥسَبِيْلَهٗاپنا راستہ
فِيمیں
ٱلۡبَحۡرِالْبَحْرِࣗۖسمندر
عَجَبٗاعَجَبًاعجیب طریقے سے

(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا

قَالَ(موسیٰ نے) کہا
ذَٰلِكَذٰلِكَیہی ہے
مَاجو
كُنَّاتھے ہم
نَبۡغِۚنَبْغِࣗۖہم چاہتے
فَٱرۡتَدَّافَارْتَدَّاتو وہ دونوں پلٹے
عَلَىٰٓعَلٰٓيپر
ءَاثَارِهِمَااٰثَارِهِمَااپنے نشانوں
قَصَصٗاقَصَصًانشان قدم تلاش کرتے ہوئے

(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے

60 اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں 61 جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا 62 جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے 63 (اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا 64 (موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے

موسیٰ اور خضر کی ملاقات 65–70

فَوَجَدَاتو دونوں نے پایا
عَبۡدٗاعَبْدًاایک بندے کو
مِّنۡمِّنْمیں سے
عِبَادِنَآعِبَادِنَا͏ٓہمارے بندوں
ءَاتَيۡنَٰهُاٰتَيْنٰهُدی تھی ہم نے اس کو
رَحۡمَةٗرَحْمَةًرحمت
مِّنۡمِّنْسے
عِندِنَاعِنْدِنَااپنے پاس (سے)
وَعَلَّمۡنَٰهُوَعَلَّمْنٰهُاور سکھایا تھا ہم نے اس کو
مِنمِنْ—
لَّدُنَّااپنے پاس سے
عِلۡمٗاعِلْمًاعلم

(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا

قَالَکہا
لَهُۥلَهٗاس کو
مُوسَىٰمُوْسٰيموسیٰ نے
هَلۡهَلْکیا
أَتَّبِعُكَاَتَّبِعُكَمیں پیروی کروں آپ کی
عَلَىٰٓعَلٰٓياوپر اس بات کے
أَناَنْکہ
تُعَلِّمَنِتو سکھائے مجھ کو
مِمَّااس میں سے
عُلِّمۡتَعُلِّمْتَجو تو سکھایا گیا
رُشۡدٗارُشْدًاسمجھ بوجھ

موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں

قَالَاس نے کہا
إِنَّكَاِنَّكَبیشک تو
لَنلَنْہرگز نہ
تَسۡتَطِيعَتَسْتَطِيْعَتو استطاعت رکھے گا
مَعِيَمیرے ساتھ
صَبۡرٗاصَبْرًاصبر کی

(خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے

وَكَيۡفَوَكَيْفَاور کس طرح
تَصۡبِرُتَصْبِرُتم صبر کرسکتے ہو
عَلَىٰعَلٰياوپر اس کے
مَاجو
لَمۡلَمْنہیں
تُحِطۡتُحِطْتم نے احاطہ کیا
بِهِۦبِهٖسے
خُبۡرٗاخُبْرًااس کا پوری پوری معرفت کے ساتھ/ پوری سمجھ

اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو

قَالَاس نے کہا
سَتَجِدُنِيٓسَتَجِدُنِيْٓعنقریب تم پاؤ گے مجھ کو
إِناِنْاگر
شَآءَشَا࢜ءَچاہا
ٱللَّهُاللّٰهُاللہ نے
صَابِرٗاصَابِرًاصبر کرنے والا
وَلَآوَّلَا͏ٓاور نہیں
أَعۡصِياَعْصِيْمیں نافرمانی کروں گا
لَكَتیرے لئے
أَمۡرٗااَمْرًاکسی حکم میں/ کسی بات میں

(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا

قَالَکہا
فَإِنِفَاِنِپھر اگر
ٱتَّبَعۡتَنِياتَّبَعْتَنِيْتم پیروی کرو میری
فَلَاپس نہ
تَسۡـَٔلۡنِيتَسْـَٔلْنِيْتم سوال کرنا مجھ سے
عَنعَنْکسی
شَيۡءٍشَيْءٍچیز کے بارے میں
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
أُحۡدِثَاُحْدِثَمیں بیان کروں
لَكَتمہارے لئے
مِنۡهُمِنْهُاس میں سے
ذِكۡرٗاذِكْرًاذکر کرنا/ بیان کرنا

(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں

65 (وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا 66 موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں 67 (خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے 68 اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو 69 (موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا 70 (خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں

Ruku 10 of 12 · 12 Ayahs

کشتی میں سوراخ 71–73

فَٱنطَلَقَافَانْطَلَقَاࣟتو دونوں چل دیئے
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
رَكِبَاوہ دونوں سوار ہوئے
فِيمیں
ٱلسَّفِينَةِالسَّفِيْنَةِکشتی
خَرَقَهَاۖخَرَقَهَاؕتو اس نے پھاڑ دیا اس کو
قَالَکہا
أَخَرَقۡتَهَااَخَرَقْتَهَاتم نے پھاڑ دیا اس کو
لِتُغۡرِقَلِتُغْرِقَتاکہ غرق کرے
أَهۡلَهَااَهْلَهَاۚاس کے رہنے والوں کو (سواروں کو)
لَقَدۡلَقَدْالبتہ تحقیق
جِئۡتَجِي͏ٔ͏ْتَلایا تو
شَيۡـًٔاشَيْـًٔاچیز
إِمۡرٗااِمْرًابہت بھاری

تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی

قَالَاس نے کہا
أَلَمۡاَلَمْکیا میں نے
أَقُلۡاَقُلْکہا نہ تھا
إِنَّكَاِنَّكَبیشک تو
لَنلَنْہرگز نہ
تَسۡتَطِيعَتَسْتَطِيْعَتو استطاعت رکھے گا
مَعِيَمیرے ساتھ
صَبۡرٗاصَبْرًاصبر کی

(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے

قَالَکہا
لَانہ
تُؤَاخِذۡنِيتُو͏ٔ͏َاخِذْنِيْآپ مؤاخذہ کیجئے میرا/ نہ پکڑئیے مجھ کو
بِمَاساتھ اس کے جو
نَسِيتُنَسِيْتُمیں بھول جاؤں
وَلَااور نہ
تُرۡهِقۡنِيتُرْهِقْنِيْآپ مجھ پر چھا جائیے
مِنۡمِنْمیں سے
أَمۡرِياَمْرِيْمیرے معاملے
عُسۡرٗاعُسْرًاتنگی کے ساتھ/ سختی کے ساتھ

(موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے

71 تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی 72 (خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے 73 (موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے

لڑکے کا قتل 74–76

فَٱنطَلَقَافَانْطَلَقَاࣟتو دونوں چل دیئے
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
لَقِيَاوہ دونوں ملے
غُلَٰمٗاغُلٰمًاایک بچے کو
فَقَتَلَهُۥفَقَتَلَهٗۙتو اس نے قتل کردیا اس کو
قَالَکہا
أَقَتَلۡتَاَقَتَلْتَکیا تو نے قتل کردیا
نَفۡسٗانَفْسًاایک جان کو/ ایک شخص کو
زَكِيَّةَۢزَكِيَّةًۢمعصوم/ پاک/ بےگناہ
بِغَيۡرِبِغَيْرِبغیر
نَفۡسٖنَفْسٍؕکسی جان کے
لَّقَدۡلَقَدْالبتہ تحقیق
جِئۡتَجِي͏ٔ͏ْتَتو لایا ہے / مرتکب ہوا ہے
شَيۡـٔٗاشَيْـًٔاایک چیز کا
نُّكۡرٗانُّكْرًاجو قابل نفرت ہے/ ناپسندیدہ ہے

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی

Hizb 31

قَالَکہا
أَلَمۡاَلَمْکیا نہیں
أَقُلاَقُلْمیں نے کہا تھا
لَّكَتجھ کو
إِنَّكَاِنَّكَبیشک تو
لَنلَنْہرگز نہیں
تَسۡتَطِيعَتَسْتَطِيْعَتو استطاعت رکھتا
مَعِيَمیرے ساتھ
صَبۡرٗاصَبْرًاصبر کی

(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے

قَالَکہا
إِناِنْاگر
سَأَلۡتُكَسَاَلْتُكَمیں سوال کروں تجھ سے
عَنعَنْکا
شَيۡءِۭشَيْءٍۢکسی چیز کا
بَعۡدَهَابَعْدَهَااس کے بعد
فَلَاتو نہ
تُصَٰحِبۡنِيۖتُصٰحِبْنِيْۚتو ساتھ رکھنا مجھ کو
قَدۡقَدْتحقیق
بَلَغۡتَبَلَغْتَپہنچا تجھ کو
مِنمِنْسے
لَّدُنِّيلَّدُنِّيْمیری طرف (سے)
عُذۡرٗاعُذْرًاعذر

انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

74 پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی 75 (خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے 76 انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

گرتی ہوئی دیوار 77–78

فَٱنطَلَقَافَانْطَلَقَاࣟتو دونوں چل دیے
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَآاِذَا͏ٓجب
أَتَيَآاَتَيَا͏ٓوہ دونوں آئے
أَهۡلَاَهْلَوالوں کے
قَرۡيَةٍقَرْيَةِایک بستی (والوں کے پاس)
ٱسۡتَطۡعَمَآاࣙسْتَطْعَمَا͏ٓتو ان دونوں نے کھانا مانگا
أَهۡلَهَااَهْلَهَااس کے رہنے والوں سے
فَأَبَوۡاْفَاَبَوْاتو انہوں نے انکار کردیا
أَناَنْکہ
يُضَيِّفُوهُمَايُّضَيِّفُوْهُمَاوہ مہمان بنائیں ان کو
فَوَجَدَاتو ان دونوں نے پائی
فِيهَافِيْهَااس میں
جِدَارٗاجِدَارًاایک دیوار
يُرِيدُيُّرِيْدُوہ چاہتی تھی
أَناَنْکہ
يَنقَضَّيَّنْقَضَّٹوٹ جائے۔ ٹوٹ گرے
فَأَقَامَهُۥۖفَاَقَامَهٗؕتو اس نے قائم کردیا اس کو
قَالَاس نے کہا
لَوۡلَوْاگر
شِئۡتَشِي͏ٔ͏ْتَتو چاہتا
لَتَّخَذۡتَلَتَّخَذْتَالبتہ تو لے لیتا
عَلَيۡهِعَلَيْهِاس پر
أَجۡرٗااَجْرًااجرت

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)

قَالَکہا
هَٰذَاهٰذَایہ ہے
فِرَاقُجدائی
بَيۡنِيبَيْنِيْمیرے درمیان
وَبَيۡنِكَۚوَبَيْنِكَۚاور تیرے درمیان
سَأُنَبِّئُكَسَاُنَبِّي͏ٔ͏ُكَعنقریب میں بتاؤں گا تجھ کو
بِتَأۡوِيلِبِتَاْوِيْلِحقیقت
مَااس کی جو
لَمۡلَمْنہیں
تَسۡتَطِعتَسْتَطِعْتو کرسکا
عَّلَيۡهِعَّلَيْهِاس پر
صَبۡرًاصَبْرًاصبر

خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں

77 پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا) 78 خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں

خضر کے کاموں کا راز 79–82

أَمَّااَمَّارہی
ٱلسَّفِينَةُالسَّفِيْنَةُکشتی
فَكَانَتۡفَكَانَتْتو وہ تھی
لِمَسَٰكِينَلِمَسٰكِيْنَمسکینوں کی
يَعۡمَلُونَيَعْمَلُوْنَجو کام کرتے تھے
فِيمیں
ٱلۡبَحۡرِالْبَحْرِسمندر (میں)
فَأَرَدتُّفَاَرَدْتُّتو میں نے چاہا
أَنۡاَنْکہ
أَعِيبَهَااَعِيْبَهَامیں عیب دار کردوں اس کو
وَكَانَاور تھا
وَرَآءَهُموَرَا࢜ءَهُمْان کے پیچھے
مَّلِكٞمَّلِكٌایک بادشاہ
يَأۡخُذُيَّاْخُذُجو لے رہا تھا
كُلَّہر
سَفِينَةٍسَفِيْنَةٍکشتی کو
غَصۡبٗاغَصْبًاظلم سے۔ چھین کر۔ غصب کرکے

(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)

وَأَمَّاوَاَمَّااور رہا
ٱلۡغُلَٰمُالْغُلٰمُلڑکا
فَكَانَتو تھے
أَبَوَاهُاَبَوٰهُاس کے والدین
مُؤۡمِنَيۡنِمُو͏ٔ͏ْمِنَيْنِدونوں مومن
فَخَشِينَآفَخَشِيْنَا͏ٓتو ڈرہوا ہم کو
أَناَنْکہ
يُرۡهِقَهُمَايُّرْهِقَهُمَاوہ غالب آجائے ان دونوں پر
طُغۡيَٰنٗاطُغْيَانًاسرکشی سے
وَكُفۡرٗاوَّكُفْرًااور کفر کے ساتھ

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے

فَأَرَدۡنَآفَاَرَدْنَا͏ٓتو ارادہ کیا ہم نے
أَناَنْکہ
يُبۡدِلَهُمَايُّبْدِلَهُمَابدل کردے ان کو
رَبُّهُمَاان کا رب
خَيۡرٗاخَيْرًابہتر
مِّنۡهُمِّنْهُاس سے
زَكَوٰةٗزَكٰوةًپاکیزگی میں
وَأَقۡرَبَوَّاَقْرَبَاور زیادہ قریب
رُحۡمٗارُحْمًاشفقت میں۔ رحمت میں

تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو

وَأَمَّاوَاَمَّااور جہاں تک
ٱلۡجِدَارُالْجِدَارُدیوار کا تعلق ہے
فَكَانَتو تھی
لِغُلَٰمَيۡنِلِغُلٰمَيْنِدو لڑکوں کی
يَتِيمَيۡنِيَتِيْمَيْنِدونوں یتیم
فِيمیں
ٱلۡمَدِينَةِالْمَدِيْنَةِشہر میں
وَكَانَاور تھا
تَحۡتَهُۥتَحْتَهٗاس کے نیچے
كَنزٞكَنْزٌایک خزانہ
لَّهُمَاان دونوں کا
وَكَانَاور تھا
أَبُوهُمَااَبُوْهُمَاان کا والد
صَٰلِحٗاصَالِحًاۚنیک
فَأَرَادَفَاَرَادَتو ارادہ کیا
رَبُّكَتیرے رب نے
أَناَنْکہ
يَبۡلُغَآيَّبْلُغَا͏ٓوہ دونوں پہنچیں
أَشُدَّهُمَااَشُدَّهُمَااپنی جوانی کو
وَيَسۡتَخۡرِجَاوَيَسْتَخْرِجَااور نکالیں
كَنزَهُمَاكَنْزَهُمَاࣗۖاپنے خزانے کو
رَحۡمَةٗرَحْمَةًبطور رحمت
مِّنمِّنْسے
رَّبِّكَۚتیرے رب کی طرف سے
وَمَااور نہیں
فَعَلۡتُهُۥفَعَلْتُهٗمیں نے کہا اس کو
عَنۡعَنْسے
أَمۡرِيۚاَمْرِيْؕاپنے حکم سے
ذَٰلِكَذٰلِكَیہ ہے
تَأۡوِيلُتَاْوِيْلُحقیقت
مَاجو
لَمۡلَمْنہیں
تَسۡطِعتَسْطِعْتم استطاعت رکھ سکے
عَّلَيۡهِعَّلَيْهِاس پر
صَبۡرٗاصَبْرًاصبر کی

اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

79 (کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے) 80 اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے 81 تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو 82 اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

Ruku 11 of 12 · 19 Ayahs

ذوالقرنین کا مغرب کا سفر 83–88

وَيَسۡـَٔلُونَكَوَيَسْـَٔلُوْنَكَاور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَنعَنْکے
ذِيذوالقرنین
ٱلۡقَرۡنَيۡنِۖالْقَرْنَيْنِؕذوالقرنین کے بارے میں
قُلۡقُلْکہہ دیجیے
سَأَتۡلُواْسَاَتْلُوْاعنقریب میں پڑھوں گا
عَلَيۡكُمعَلَيْكُمْتم پر
مِّنۡهُمِّنْهُاس میں سے
ذِكۡرًاذِكْرًاکچھ ذکر۔ کچھ حال

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

إِنَّااِنَّابیشک ہم نے
مَكَّنَّااقتدار دیا تھا ہم نے
لَهُۥلَهٗاس کو
فِيمیں
ٱلۡأَرۡضِالْاَرْضِزمین (میں)
وَءَاتَيۡنَٰهُوَاٰتَيْنٰهُاور دئیے تھے ہم نے اس کو
مِنمِنْسے
كُلِّہر
شَيۡءٖشَيْءٍچیز میں سے
سَبَبٗاسَبَبًااسباب

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا

فَأَتۡبَعَفَاَتْبَعَتو اس نے پیروی کی
سَبَبًااسباب کی

تو اس نے (سفر کا) ایک سامان کیا

حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
بَلَغَوہ پہنچ گیا
مَغۡرِبَمَغْرِبَغروب ہونے کی جگہ
ٱلشَّمۡسِالشَّمْسِسورج
وَجَدَهَاپایا اس کو
تَغۡرُبُتَغْرُبُغروب ہورہا ہے
فِيفِيْمیں
عَيۡنٍعَيْنٍایک چشمے (میں)
حَمِئَةٖحَمِي͏ٔ͏َةٍگدلے۔ کیچڑ والے
وَوَجَدَوَّوَجَدَاور پایا
عِندَهَاعِنْدَهَااس کے پاس
قَوۡمٗاۖقَوْمًا࣢ؕایک قوم کو
قُلۡنَاقُلْنَاکہا ہم نے
يَٰذَايٰذَااے
ٱلۡقَرۡنَيۡنِالْقَرْنَيْنِذوالقرنین
إِمَّآاِمَّا͏ٓخواہ
أَناَنْیہ
تُعَذِّبَتو عذاب دے۔ سزا دے
وَإِمَّآوَاِمَّا͏ٓاور خواہ یہ
أَناَنْکہ
تَتَّخِذَتو اختیار کرے
فِيهِمۡفِيْهِمْان کے معاملے میں
حُسۡنٗاحُسْنًابھلائی

یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے)

قَالَاس نے کہا
أَمَّااَمَّارہا وہ
مَنمَنْجو
ظَلَمَظلم کرتا ہے
فَسَوۡفَفَسَوْفَتو عنقریب
نُعَذِّبُهُۥنُعَذِّبُهٗہم عذاب دیں گے اس کو
ثُمَّپھر
يُرَدُّوہ لوٹایاجائے گا
إِلَىٰاِلٰيطرف
رَبِّهِۦرَبِّهٖاپنے رب کی (طرف)
فَيُعَذِّبُهُۥفَيُعَذِّبُهٗتو وہ عذاب دے گا اس کو
عَذَابٗاعَذَابًاعذاب
نُّكۡرٗانُّكْرًاسخت

ذوالقرنین نے کہا کہ جو (کفر وبدکرداری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے۔ پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے بُرا عذاب دے گا

وَأَمَّاوَاَمَّااور رہا
مَنۡمَنْجو
ءَامَنَاٰمَنَایمان لایا
وَعَمِلَاور عمل کیے
صَٰلِحٗاصَالِحًااچھے
فَلَهُۥفَلَهٗتو اس کے لیے
جَزَآءًجَزَا࢜ءَجزا ہے ۔ بدلہ ہے
ٱلۡحُسۡنَىٰۖاࣙلْحُسْنٰيۚاچھی (جزا ہے ۔ اچھا بدلہ ہے)
وَسَنَقُولُوَسَنَقُوْلُاور عنقریب ہم کہیں گے
لَهُۥلَهٗاس سے
مِنۡمِنْسے
أَمۡرِنَااَمْرِنَااپنے حکم میں (سے)
يُسۡرٗايُسْرًاآسان

اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

83 اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں 84 ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا 85 تو اس نے (سفر کا) ایک سامان کیا 86 یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے) 87 ذوالقرنین نے کہا کہ جو (کفر وبدکرداری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے۔ پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے بُرا عذاب دے گا 88 اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

ذوالقرنین کا مشرق کا سفر 89–91

ثُمَّپھر
أَتۡبَعَاَتْبَعَاس نے پیروی کی
سَبَبًااسباب کی

پھر اس نے ایک اور سامان (سفر کا) کیا

حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
بَلَغَوہ پہنچا
مَطۡلِعَمَطْلِعَطلوع ہونے کی جگہ
ٱلشَّمۡسِالشَّمْسِسورج کے
وَجَدَهَاپایا اس کو
تَطۡلُعُتَطْلُعُکہ طلوع ہو رہا ہے
عَلَىٰعَلٰيپر
قَوۡمٖقَوْمٍایک قوم (پر)
لَّمۡلَّمْنہیں
نَجۡعَلنَجْعَلْبنایا ہم نے
لَّهُملَّهُمْان کے لیے
مِّنمِّنْکے
دُونِهَادُوْنِهَااس کے ادھر
سِتۡرٗاسِتْرًاکوئی پردہ۔ اوٹ

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے ہم نے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی

كَذَٰلِكَۖكَذٰلِكَؕاسی طرح
وَقَدۡوَقَدْاور تحقیق
أَحَطۡنَااَحَطْنَاگھیر رکھا تھا ہم نے
بِمَاجو
لَدَيۡهِلَدَيْهِاس کے پاس تھا
خُبۡرٗاخُبْرًاخبر میں سے

(حقیقت حال) یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی

89 پھر اس نے ایک اور سامان (سفر کا) کیا 90 یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے ہم نے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی 91 (حقیقت حال) یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی

یاجوج ماجوج 92–94

ثُمَّپھر
أَتۡبَعَاَتْبَعَاس نے پیروی کی
سَبَبًااسباب کی

پھر اس نے ایک اور سامان کیا

حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
بَلَغَوہ پہنچا
بَيۡنَبَيْنَدرمیان
ٱلسَّدَّيۡنِالسَّدَّيْنِدو پہاڑوں کے
وَجَدَاس نے پایا
مِنمِنْسے
دُونِهِمَادُوْنِهِمَاان کے علاوہ
قَوۡمٗاقَوْمًاۙایک قوم کو
لَّانہ
يَكَادُونَيَكَادُوْنَقریب تھے
يَفۡقَهُونَيَفْقَهُوْنَکہ سمجھتے
قَوۡلٗاقَوْلًابات کو

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

قَالُواْقَالُوْاانہوں نے کہا
يَٰذَايٰذَااے
ٱلۡقَرۡنَيۡنِالْقَرْنَيْنِاے ذوالقرنین
إِنَّاِنَّبیشک
يَأۡجُوجَيَاْجُوْجَیاجوج
وَمَأۡجُوجَوَمَاْجُوْجَاور ماجوج
مُفۡسِدُونَمُفْسِدُوْنَفساد کرنے والے ہیں
فِيمیں
ٱلۡأَرۡضِالْاَرْضِزمین (میں)
فَهَلۡفَهَلْتو کیا
نَجۡعَلُنَجْعَلُہم بنائیں
لَكَتیرے لیے
خَرۡجًاخَرْجًاخراج۔ ٹیکس
عَلَىٰٓعَلٰٓياس بات پر
أَناَنْکہ
تَجۡعَلَتَجْعَلَتو بنائے
بَيۡنَنَابَيْنَنَاہمارے درمیان
وَبَيۡنَهُمۡوَبَيْنَهُمْاور ان کے درمیان
سَدّٗاسَدًّاایک بند۔ روک

ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں

92 پھر اس نے ایک اور سامان کیا 93 یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے 94 ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں

ذوالقرنین کی دیوار 95–98

قَالَاس نے کہا
مَاجو
مَكَّنِّيمَكَّنِّيْقدرت دی ہے مجھ کو
فِيهِفِيْهِاس میں
رَبِّيرَبِّيْمیرے رب نے
خَيۡرٞخَيْرٌبہتر ہے
فَأَعِينُونِيفَاَعِيْنُوْنِيْپس تم سب مدد کرو میری
بِقُوَّةٍساتھ قوت کے
أَجۡعَلۡاَجْعَلْمیں بناؤں
بَيۡنَكُمۡبَيْنَكُمْتمہارے درمیان
وَبَيۡنَهُمۡوَبَيْنَهُمْاور ان کے درمیان
رَدۡمًارَدْمًاایک مضبوط دیوار

ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا

ءَاتُونِياٰتُوْنِيْدو مجھ کو
زُبَرَچادریں
ٱلۡحَدِيدِۖالْحَدِيْدِؕلوہے کی (چادریں)۔ (لوہے کے) ٹکڑے
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
سَاوَىٰسَاوٰيبرابر کردیا
بَيۡنَبَيْنَدرمیان
ٱلصَّدَفَيۡنِالصَّدَفَيْنِدو کناروں کے
قَالَکہا
ٱنفُخُواْۖانْفُخُوْاؕپھونکو
حَتَّىٰٓحَتّٰٓيیہاں تک کہ
إِذَااِذَاجب
جَعَلَهُۥجَعَلَهٗکردیا اس کو
نَارٗانَارًاۙآگ
قَالَکہا
ءَاتُونِيٓاٰتُوْنِيْٓدو مجھ کو
أُفۡرِغۡاُفْرِغْمیں انڈیلوں
عَلَيۡهِعَلَيْهِاس پر
قِطۡرٗاقِطْرًاپگھلا ہوا تانبا

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں

فَمَاتو نہ
ٱسۡطَٰعُوٓاْاسْطَاعُوْٓاہمت ہوئی
أَناَنْکہ
يَظۡهَرُوهُيَّظْهَرُوْهُوہ چڑھ سکیں اس پر
وَمَااور نہ
ٱسۡتَطَٰعُواْاسْتَطَاعُوْاوہ طاقت رکھتے تھے
لَهُۥلَهٗاس کے لیے
نَقۡبٗانَقْبًانقب لگانے کی

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

قَالَکہا
هَٰذَاهٰذَایہ
رَحۡمَةٞرَحْمَةٌرحمت ہے
مِّنمِّنْکی
رَّبِّيۖرَّبِّيْۚمیرے رب (کی)
فَإِذَافَاِذَاپھر جب
جَآءَجَا࢜ءَآجائے گا
وَعۡدُوَعْدُوعدہ
رَبِّيرَبِّيْمیرے رب
جَعَلَهُۥجَعَلَهٗمقررہ وقت کردے گا اس کو
دَكَّآءَۖدَكَّا࢜ءَۚبرابر۔ ریزہ ریزہ
وَكَانَاور ہے
وَعۡدُوَعْدُوعدہ
رَبِّيرَبِّيْمیرے رب کا
حَقّٗاحَقًّاسچ۔ برحق

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔ جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

95 ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا 96 تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں 97 پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں 98 بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔ جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

¼ Hizb 31

انسانوں کا آخری اجتماع 99–102

وَتَرَكۡنَاوَتَرَكْنَااور ہم چھوڑ دیں گے
بَعۡضَهُمۡبَعْضَهُمْان میں سے بعض کو
يَوۡمَئِذٖيَوْمَىِٕذٍاس دن
يَمُوجُيَّمُوْجُمل جل جائیں گے۔ لہریں ماریں گے
فِيفِيْمیں
بَعۡضٖۖبَعْضٍبعض
وَنُفِخَوَّنُفِخَاور پھونک ماری جائے گی
فِيمیں
ٱلصُّورِالصُّوْرِصور (میں)
فَجَمَعۡنَٰهُمۡفَجَمَعْنٰهُمْتو ہم جمع کرلیں گے ان کو
جَمۡعٗاجَمْعًاجمع کرنا

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

وَعَرَضۡنَاوَّعَرَضْنَااور ہم پیش کریں گے
جَهَنَّمَجہنم کو
يَوۡمَئِذٖيَوْمَىِٕذٍاس دن
لِّلۡكَٰفِرِينَلِّلْكٰفِرِيْنَکافروں کے لیے
عَرۡضًاعَرْضَاپیش کرنا

اور اُس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

ٱلَّذِينَاࣙلَّذِيْنَوہ لوگ
كَانَتۡكَانَتْتھیں
أَعۡيُنُهُمۡاَعْيُنُهُمْان کی آنکھیں
فِيفِيْمیں
غِطَآءٍغِطَا࢜ءٍپردے (میں)
عَنعَنْسے
ذِكۡرِيذِكْرِيْمیرے ذکر (سے)
وَكَانُواْوَكَانُوْااور تھے وہ
لَانہ
يَسۡتَطِيعُونَيَسْتَطِيْعُوْنَاستطاعت رکھتے
سَمۡعًاسَمْعًاسننے کی

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

Ruku 12 of 12 · 9 Ayahs

أَفَحَسِبَاَفَحَسِبَکیا بھلا گمان رکھتے ہیں
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ لوگ
كَفَرُوٓاْكَفَرُوْٓاجنہوں نے کفر کیا
أَناَنْکہ
يَتَّخِذُواْيَّتَّخِذُوْاوہ بنالیں گے
عِبَادِيعِبَادِيْمیرے بندوں کو
مِنمِنْ—
دُونِيٓدُوْنِيْٓمیرے سوا
أَوۡلِيَآءَۚاَوْلِيَا࢜ءَؕدوست مددگار
إِنَّآاِنَّا͏ٓبیشک ہم نے
أَعۡتَدۡنَااَعْتَدْنَاتیار کی ہم نے
جَهَنَّمَجہنم
لِلۡكَٰفِرِينَلِلْكٰفِرِيْنَکافروں کے لیے
نُزُلٗانُزُلًابطور مہمان کے

کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

99 (اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے 100 اور اُس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے 101 جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے 102 کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

خود فریب منکرین کا انجام 103–106

قُلۡقُلْکہہ دیجئے
هَلۡهَلْکیا
نُنَبِّئُكُمنُنَبِّي͏ٔ͏ُكُمْہم بتائیں تم کو
بِٱلۡأَخۡسَرِينَبِالْاَخْسَرِيْنَسب سے زیادہ خسارے والے۔ سب سے زیادہ ظالم لوگ
أَعۡمَٰلًااَعْمَالًااعمال میں۔ اعمال کے اعتبار سے

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں

ٱلَّذِينَاَلَّذِيْنَوہ لوگ
ضَلَّگم ہوگئی
سَعۡيُهُمۡسَعْيُهُمْان کی کوشش
فِيمیں
ٱلۡحَيَوٰةِالْحَيٰوةِزندگی
ٱلدُّنۡيَاالدُّنْيَادنیا کی
وَهُمۡوَهُمْاور وہ
يَحۡسَبُونَيَحْسَبُوْنَسمجھتے ہیں
أَنَّهُمۡاَنَّهُمْبیشک وہ
يُحۡسِنُونَيُحْسِنُوْنَاچھے کررہے ہیں
صُنۡعًاصُنْعًاکام

وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی۔ اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں

أُوْلَٰٓئِكَاُولٰ࢜ىِٕكَیہی
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ لوگ ہیں
كَفَرُواْكَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
بِـَٔايَٰتِبِاٰيٰتِآیات سے
رَبِّهِمۡرَبِّهِمْاپنے رب کی
وَلِقَآئِهِۦوَلِقَا࢜ىِٕهٖاور اس کی ملاقات سے
فَحَبِطَتۡفَحَبِطَتْتو ضائع ہوگئے
أَعۡمَٰلُهُمۡاَعْمَالُهُمْان کے اعمال
فَلَاتو نہیں
نُقِيمُنُقِيْمُہم قائم کریں گے۔ ہم دیکھیں گے
لَهُمۡلَهُمْان کے لیے
يَوۡمَيَوْمَدن
ٱلۡقِيَٰمَةِالْقِيٰمَةِقیامت کے
وَزۡنٗاوَزْنًاکوئی وزن

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے

ذَٰلِكَذٰلِكَیہ
جَزَآؤُهُمۡجَزَا࢜و͏ٔ͏ُهُمْان کی جزا
جَهَنَّمُجہنم ہے
بِمَابوجہ اس کے
كَفَرُواْكَفَرُوْاجو انہوں نے کفر کیا
وَٱتَّخَذُوٓاْوَاتَّخَذُوْٓااور بنالیا
ءَايَٰتِياٰيٰتِيْمیری آیات کو
وَرُسُلِيوَرُسُلِيْاور میرے رسولوں کو
هُزُوًامذاق

یہ ان کی سزا ہے (یعنی) جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی

103 کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں 104 وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی۔ اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں 105 یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے 106 یہ ان کی سزا ہے (یعنی) جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی

جنت الفردوس 107–108

إِنَّاِنَّبیشک
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ لوگ
ءَامَنُواْاٰمَنُوْاجو ایمان لائے
وَعَمِلُواْوَعَمِلُوااور انہوں نے کام کیے
ٱلصَّٰلِحَٰتِالصّٰلِحٰتِاچھے
كَانَتۡكَانَتْہیں
لَهُمۡلَهُمْان کے لیے
جَنَّٰتُجَنّٰتُباغ
ٱلۡفِرۡدَوۡسِالْفِرْدَوْسِفردوس کے
نُزُلًامہمانی کے طور پر

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

خَٰلِدِينَخٰلِدِيْنَہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَافِيْهَاان میں
لَانہ
يَبۡغُونَيَبْغُوْنَچاہیں گے
عَنۡهَاعَنْهَاان سے
حِوَلٗاحِوَلًابدلنا۔ ٹلنا

ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

107 جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے 108 ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

اللہ کے لامحدود کلمات 109–110

قُلقُلْکہہ دیجئے
لَّوۡلَّوْاگر
كَانَہوجائیں
ٱلۡبَحۡرُالْبَحْرُسمندر
مِدَادٗامِدَادًاروشنائی
لِّكَلِمَٰتِلِّكَلِمٰتِباتوں کے لیے
رَبِّيرَبِّيْمیرے رب کی
لَنَفِدَالبتہ ختم ہوجائیں
ٱلۡبَحۡرُالْبَحْرُسمندر
قَبۡلَقَبْلَاس سے پہلے
أَناَنْکہ
تَنفَدَتَنْفَدَختم ہوں
كَلِمَٰتُكَلِمٰتُباتیں
رَبِّيرَبِّيْمیرے رب کی
وَلَوۡوَلَوْاور اگرچہ
جِئۡنَاجِي͏ٔ͏ْنَالائیں ہم
بِمِثۡلِهِۦبِمِثْلِهٖاس کی مانند
مَدَدٗامَدَدًامدد۔ اضافہ۔ زیادتی

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

قُلۡقُلْکہہ دیجیے
إِنَّمَآاِنَّمَا͏ٓبیشک
أَنَا۠اَنَامیں
بَشَرٞبَشَرٌایک انسان ہوں
مِّثۡلُكُمۡمِّثْلُكُمْتم جیسا
يُوحَىٰٓيُوْحٰٓيوحی کی جاتی ہے
إِلَيَّاِلَيَّمیری طرف
أَنَّمَآاَنَّمَا͏ٓبیشک
إِلَٰهُكُمۡاِلٰهُكُمْالہ تمہارا
إِلَٰهٞاِلٰهٌاللہ ہے
وَٰحِدٞۖوَّاحِدٌۚایک ہی
فَمَنفَمَنْتو جو کوئی
كَانَہو
يَرۡجُواْيَرْجُوْاامید رکھتا
لِقَآءَلِقَا࢜ءَملاقات کی
رَبِّهِۦرَبِّهٖاپنے رب کی
فَلۡيَعۡمَلۡفَلْيَعْمَلْپس چاہیے کہ عمل کرے
عَمَلٗاعَمَلًاعمل
صَٰلِحٗاصَالِحًانیک
وَلَاوَّلَااور نہ
يُشۡرِكۡيُشْرِكْشریک ٹھہرائے
بِعِبَادَةِعبادت میں
رَبِّهِۦٓرَبِّهٖٓاپنے رب کی
أَحَدَۢااَحَدًاکسی ایک کو

کہہ دو کہ میں تمہاری کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

109 کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں 110 کہہ دو کہ میں تمہاری کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے