SaaliheenSign in
89

الفجر

Al-Fajr · Meccan · 30 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

Ruku 1 of 1 · 30 Ayahs

فجر اور راتوں کی قسمیں 1–5

وَٱلۡفَجۡرِوَالْفَجْرِقسم ہے فجر کی

فجر کی قسم

وَلَيَالٍاور قسم ہے راتوں کی
عَشۡرٖعَشْرٍدس

اور دس راتوں کی

وَٱلشَّفۡعِوَّالشَّفْعِاور قسم ہے جفت کی
وَٱلۡوَتۡرِوَالْوَتْرِاور قسم ہے طاق

اور جفت اور طاق کی

وَٱلَّيۡلِوَالَّيْلِاور قسم ہے رات کی
إِذَااِذَاجب
يَسۡرِيَسْرِوہ رخصت ہوتی ہو/ چلنے لگے

اور رات کی جب جانے لگے

هَلۡهَلْکیا
فِيفِيْمیں
ذَٰلِكَذٰلِكَاس (میں)
قَسَمٞقَسَمٌکوئی قسم ہے
لِّذِيلِّذِيْوالوں کے لئے
حِجۡرٍحِجْرٍعقل (والوں کے لئے)

اور بے شک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)

1 فجر کی قسم 2 اور دس راتوں کی 3 اور جفت اور طاق کی 4 اور رات کی جب جانے لگے 5 اور بے شک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)

عاد، ثمود اور فرعون کا انجام 6–14

أَلَمۡاَلَمْکیا نہیں
تَرَتم نے دیکھا
كَيۡفَكَيْفَکس طرح
فَعَلَکیا
رَبُّكَتیرے رب نے
بِعَادٍعاد کے ساتھ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

إِرَمَاِرَمَجو ارم کے تھے
ذَاتِوالے تھے
ٱلۡعِمَادِالْعِمَادِجو ستونوں (والے تھے)

(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد

ٱلَّتِيالَّتِيْوہ جو
لَمۡلَمْنہ
يُخۡلَقۡيُخْلَقْپیدا کئے گئے
مِثۡلُهَامِثْلُهَاان جیسے
فِيمیں
ٱلۡبِلَٰدِالْبِلَادِملکوں (میں)

کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے

وَثَمُودَوَثَمُوْدَاور ثمود
ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ لوگ
جَابُواْجَابُواجنہوں نے تراشا
ٱلصَّخۡرَالصَّخْرَچٹانوں کو
بِٱلۡوَادِبِالْوَادِوادی میں

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے

وَفِرۡعَوۡنَوَفِرْعَوْنَاور فرعون کو
ذِيوالا
ٱلۡأَوۡتَادِالْاَوْتَادِجو میخوں والا تھا

اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا

ٱلَّذِينَالَّذِيْنَوہ جنہوں نے
طَغَوۡاْطَغَوْاسرکشی کی
فِيمیں
ٱلۡبِلَٰدِالْبِلَادِملکوں میں

یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے

فَأَكۡثَرُواْفَاَكْثَرُوْاپھر کثرت سے کیا
فِيهَافِيْهَاان میں
ٱلۡفَسَادَالْفَسَادَفساد/ بگاڑ

اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے

فَصَبَّتو ڈالا/ انڈیلا
عَلَيۡهِمۡعَلَيْهِمْان پر
رَبُّكَتیرے رب نے
سَوۡطَسَوْطَکوڑا
عَذَابٍعذاب کا

تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا

إِنَّاِنَّبیشک
رَبَّكَتیرا رب
لَبِٱلۡمِرۡصَادِلَبِالْمِرْصَادِالبتہ گھات میں ہے

بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے

6 کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا 7 (جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد 8 کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے 9 اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے 10 اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا 11 یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے 12 اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے 13 تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا 14 بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے

مال، تنگی اور یتیم 15–20

فَأَمَّافَاَمَّاتو رہا
ٱلۡإِنسَٰنُالْاِنْسَانُانسان
إِذَااِذَاجب
مَا—
ٱبۡتَلَىٰهُابْتَلٰىهُآزماتا ہے اس کو
رَبُّهُۥرَبُّهٗاس کا رب
فَأَكۡرَمَهُۥفَاَكْرَمَهٗپھر عزت دیتا ہے اس کو
وَنَعَّمَهُۥوَنَعَّمَهٗ࣢ۙاور نعمت دیتا ہے اس کو
فَيَقُولُفَيَقُوْلُتو کہتا ہے
رَبِّيٓرَبِّيْٓمیرے رب نے
أَكۡرَمَنِاَكْرَمَنِعزت دی مجھ کو

مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی

وَأَمَّآوَاَمَّا͏ٓاور اگر پھر
إِذَااِذَاجب
مَا—
ٱبۡتَلَىٰهُابْتَلٰىهُوہ آزماتا ہے اس کو
فَقَدَرَ(اور) پھر تنگ کردیتا ہے
عَلَيۡهِعَلَيْهِاس پر
رِزۡقَهُۥرِزْقَهٗ࣢ۙاس کا رزق
فَيَقُولُفَيَقُوْلُتو وہ کہتا ہے
رَبِّيٓرَبِّيْٓمیرے رب نے
أَهَٰنَنِاَهَانَنِذلیل کردیا مجھ کو/ رسوا کردیا مجھ کو

اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا

كـَلَّاۖكَلَّاہرگز نہیں
بَلبَلْبلکہ
لَّانہیں
تُكۡرِمُونَتُكْرِمُوْنَتم عزت دیتے
ٱلۡيَتِيمَالْيَتِيْمَیتیم کو

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

وَلَااور نہیں
تَحَٰٓضُّونَتَحٰ࢜ضُّوْنَتم اکساتے/ ترغیب دیتے
عَلَىٰعَلٰيپر
طَعَامِکھانا کھلانے پر
ٱلۡمِسۡكِينِالْمِسْكِيْنِمسکین کے

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

وَتَأۡكُلُونَوَتَاْكُلُوْنَاور تم کھا جاتے ہو
ٱلتُّرَاثَالتُّرَاثَمیراث کو
أَكۡلٗااَكْلًاکھانا
لَّمّٗالَّمًّاسمیٹ کر

اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

وَتُحِبُّونَوَّتُحِبُّوْنَاور تم محبت رکھتے ہو
ٱلۡمَالَالْمَالَمال سے
حُبّٗاحُبًّامحبت
جَمّٗاجَمًّابہت زیادہ

اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو

15 مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی 16 اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا 17 نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے 18 اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو 19 اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو 20 اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو

قیامت کے دن بے سود پچھتاوا 21–26

كـَلَّآۖكَلَّا͏ٓہرگز نہیں
إِذَااِذَاجب
دُكَّتِریزہ ریزہ کر دی جائے گی
ٱلۡأَرۡضُالْاَرْضُزمین
دَكّٗادَكًّاخوب ریزہ
دَكّٗادَكًّاریزہ کرکے

تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کو پست کر دی جائے گی

وَجَآءَوَّجَا࢜ءَاور آئے گا
رَبُّكَرب تیرا
وَٱلۡمَلَكُوَالْمَلَكُاور فرشتے
صَفّٗاصَفًّاصف
صَفّٗاصَفًّادر صف

اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے

وَجِاْيٓءَوَجِايْ࢜ءَاور لائی جائے گی
يَوۡمَئِذِۭيَوْمَىِٕذٍۭاس دن
بِجَهَنَّمَۚبِجَهَنَّمَ࣢ۙجہنم
يَوۡمَئِذٖيَوْمَىِٕذٍاس دن
يَتَذَكَّرُيَّتَذَكَّرُیاد کرے گا/ نصیحت پائے گا
ٱلۡإِنسَٰنُالْاِنْسَانُانسان
وَأَنَّىٰوَاَنّٰياور کہاں سے ہے/ ہوگی
لَهُاس کے لئے
ٱلذِّكۡرَىٰالذِّكْرٰينصیحت

اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا)

يَقُولُيَقُوْلُکہے گا
يَٰلَيۡتَنِييٰلَيْتَنِيْاے کاش کہ میں
قَدَّمۡتُقَدَّمْتُآگے بھیجتا
لِحَيَاتِيلِحَيَاتِيْاپنی زندگی کے لئے

کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا

فَيَوۡمَئِذٖفَيَوْمَىِٕذٍتو اس دن
لَّانہ
يُعَذِّبُعذاب دے گا
عَذَابَهُۥٓعَذَابَهٗٓعذاب اس کا/ اس جیسا
أَحَدٞاَحَدٌکوئی ایک

تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا

وَلَاوَّلَااور نہ
يُوثِقُيُوْثِقُباندھے گا
وَثَاقَهُۥٓوَثَاقَهٗٓباندھنا اس کا
أَحَدٞاَحَدٌکوئی ایک

اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا

21 تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کو پست کر دی جائے گی 22 اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے 23 اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا) 24 کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا 25 تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا 26 اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا

مطمئن روح کا استقبال 27–30

يَٰٓأَيَّتُهَايٰٓاَيَّتُهَااے
ٱلنَّفۡسُالنَّفْسُنفس
ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُالْمُطْمَىِٕنَّةُمطمئنہ/ اطمینان والے نفس

اے اطمینان پانے والی روح!

ٱرۡجِعِيٓارْجِعِيْٓواپس چلو
إِلَىٰاِلٰيطرف
رَبِّكِاپنے رب کی
رَاضِيَةٗرَاضِيَةًراضی
مَّرۡضِيَّةٗمَّرْضِيَّةًپسندیدہ/ خوشی

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

فَٱدۡخُلِيفَادْخُلِيْپھر داخل ہوجاؤ
فِيفِيْمیں
عِبَٰدِيعِبٰدِيْمیرے بندوں (میں)

تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا

وَٱدۡخُلِيوَادْخُلِيْاور داخل ہوجاؤ
جَنَّتِيجَنَّتِيْمیری جنت میں

اور میری بہشت میں داخل ہو جا

27 اے اطمینان پانے والی روح! 28 اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی 29 تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا 30 اور میری بہشت میں داخل ہو جا